خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 934 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 934

$2004 934 خطبات مسرور بعض بیٹوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔اور جو بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں وہ صرف اس لئے کہ گھر کے جولڑ کے ہیں وہ نکھے ہیں، کوئی کام نہیں کر رہے پڑھے لکھے نہیں اس لئے گھر بیٹیوں کی کمائی پر چل رہا ہے اور اگر شادی کر بھی دی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ داماد، گھر داماد بن کر رہے، گھر میں ہی موجود رہے جو اکثر ناممکن ہوتا ہے۔جس سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے شادی کرنے کے بعد اگر میاں بیوی علیحدہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کو توفیق ہے اور والدین عمر کے اس آخری حصے میں نہیں پہنچے ہوتے جہاں ان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بچہ ان ہواور۔کے پاس نہ ہو ، پھر تو ایک اور بات ہے قربانی کرنی پڑتی ہے۔وہ بھی لڑکوں کا کام ہے۔اگر کسی کے لڑکا نہ ہو تو پھر لڑکی کی مجبوری ہے۔لیکن عموماً لڑکی بیاہ کر جب دوسرے گھر میں بھیج دی تو اس کو اپنا گھر بسانے دینا چاہئے۔اور اس طرف جماعتی نظام کے ساتھ ہماری تینوں ذیلی تنظیمیں لجنہ ، خدام ، انصار، ان کو بھی توجہ دینی چاہئے۔ان کو بھی اپنے طور پر تربیت کے تحت سمجھاتے رہنا چاہئے۔انصار والدین کو سمجھائیں، لجنہ والدین کو لڑکیوں کو اور خدام لڑکوں کو سمجھائیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک جگہ منگنی کا پیغام دیا تو آپ نے فرمایا کہ اس لڑکی کو دیکھ لو کیونکہ اس طرح دیکھنے سے تمہارے اور اس کے درمیان موافقت اور الفت کا امکان زیادہ ہے۔(ترمذی کتاب النکاح باب في النظر الى المخطوبة ) اس اجازت کو بھی آج کل کے معاشرے میں بعض لوگوں نے غلط سمجھ لیا ہے۔اور یہ مطلب لے لیا ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ہر وقت علیحدہ بیٹھے رہیں، علیحدہ سیریں کرتے رہیں۔دوسرے شہروں میں چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں، گھروں میں بھی گھنٹوں علیحدہ بیٹھے رہیں تو یہ چیز بھی غلط ہے۔مطلب یہ ہے کہ آمنے سامنے آکر شکل دیکھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔بعض حرکات کا باتیں کرتے ہوئے پتہ لگ جاتا ہے۔پھر آجکل کے زمانے میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔کھانا کھاتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی