خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 933
933 $2004 خطبات مسرور بچیوں کی دینداری دیکھیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے وارث بھی بنیں گے اور اپنی نسل کو بھی دین پر چلتا ہوادیکھنے والے ہوں گے۔بعض لوگ تو رشتے کے وقت لڑکیوں کو اس طرح ٹول کر دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح قربانی کے بکرے کو ٹولا جاتا ہے۔شادی تو ایک معاہدہ ہے۔ایک فریق کی قربانی کا نام نہیں ہے۔بلکہ دونوں فریقوں کی ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا نام ہے۔یہ ایسا بندھن ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ دنیا تو سامان زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر اور کو ئی سامان زیست نہیں ہے۔(ابن ماجه ابواب النكاح - باب افضل النساء ) پس ان لوگوں کے لئے جو ہر چیز کو دنیا کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ان کو بھی یہ حدیث ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نیک عورت سے بڑھ کر تمہارے لئے کوئی زندگی کا اور دنیاوی سامان نہیں ہے۔نیک عورت تمہارے گھر کو بھی سنبھال کے رکھے گی اور تمہاری اولاد کی بھی اعلیٰ تربیت کرے گی۔نتیجتا تم دین و دنیا کی بھلائیاں حاصل کرنے والے ہو گے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔صالح مرد اور صالح عورتوں کی شادی کروایا کرو۔(سنن الدارمی ـ کتاب النکاح باب في النكاح الصالحين۔تو اس میں بھی نیک لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی طرف اشارہ ہے۔اور یہ نیک کام معاشرے کو فساد سے بچانے کا ذریعہ ہے۔اس لئے اس میں جلدی بھی کرنی چاہئے۔لیکن آج کل تو بعض دفعہ دیکھا ہے ایسے لوگ کافی تعداد میں ہیں ماں باپ کے ساتھ لڑ کے آتے ہیں 34-35 سال کی عمر ہوتی ہے لیکن ان کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھا ہوا ہے۔ان کی ابھی تک شادیاں نہیں کروائیں۔شادی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔بعض لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں۔