خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 932 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 932

$2004 932 خطبات مسرور جب بچیوں کے رشتے آتے ہیں تو زیادہ لٹکانا نہیں چاہئے بلکہ اگر دینداری کی تسلی ہو گئی ہے تو رشتہ کر دینا چاہئے۔اس طرح لڑکوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ رشتے کرتے وقت لڑکی کی ظاہری اور دنیاوی حالت کو نہ دیکھو۔اس حیثیت کو نہ دیکھا کرو بلکہ یہ دیکھو کہ اس میں نیکی کتنی ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے خاندان کی وجہ سے یا اس کے حسن و جمال کی وجہ سے یا اس کی دینداری کی وجہ سے۔لیکن تو دیندار عورت کو ترجیح دے۔اللہ تیرا بھلا کرے اور تجھے دیندار عورت حاصل ہو۔(بخاری۔کتاب النکاح باب الاكفاء في الدين ) تو اس طرف توجہ دلا کر آئندہ نسلوں کے دیندار ہونے کے ظاہری سامان کی طرف اصل میں توجہ دلائی ہے۔اپنے گھریلو ماحول کو پر سکون بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔کیونکہ اگر ماں نیک اور دیندار ہوگی تو عموماً ولا بھی دیندار ہوتی ہے۔اور نیک اور دیندار اولا د سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں ہے جو انسان کو سکون پہنچا سکے۔ایک مومن کے لئے معاشرے میں عزت کا باعث نیک اور دیندار اولا دہی بن سکتی ہے۔تو اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔یہ شکایتیں اب بڑی عام ہونے لگ گئی ہیں کہ بچی نیک ہے ، شریف ہے ، با اخلاق ہے، پڑھی لکھی ہے، جماعتی کاموں میں حصہ بھی لیتی ہے، لیکن شکل ذرا کم ہے یا قد اس کا دیکھنے والوں کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔تو لوگ آتے ہیں دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔اس بارے میں پہلے بھی ایک دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ شکل اور قد کاٹھے تو تصویر اور معلومات کے ذریعہ سے بھی پتہ لگ سکتا ہے۔پھر گھر جا کر بچیوں کو دیکھنا اور ان کو تنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس لئے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان چیزوں کو نہ دیکھو، دینداری کو دیکھو۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی نسلوں کو سنبھالنا ہے تو دینداری دیکھا کرو۔اگر