خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 931
$2004 931 خطبات مسرور رشتہ کیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کے کئے ہوئے رشتے کو تو ڑ کر بچے کے چا یعنی عورت کے دیور سے اس کا رشتہ کر دیا۔(مسند الامام الاعظم - كتاب النكاح عدم جواز النكاح بغير رضا المرءة) اب یہاں بیوہ کا حق فائق تھا اور دوسرے عورت (لڑکی ) کی مرضی بھی دیکھنی تھی۔لیکن یہ جماعت احمدیہ میں بہر حال دیکھا جائے گا کہ لڑکی جہاں رشتہ کر رہی ہے یا جہاں رشتے کی خواہش رکھتی ہے وہ لڑکا بہر حال احمدی ہو۔کیونکہ ان تمام باتوں کا مقصد پاک معاشرے کا قیام ہے۔نیکیوں کو قائم کرنا ہے اور نیک اولاد کا حصول ہے۔اگر احمدی لڑکے احمدی لڑکیوں کو چھوڑ کر اور احمدی لڑکیاں احمدی لڑکوں کو چھوڑ کر دوسروں سے شادی کریں گے تو معاشرے میں ، خاندان میں فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا۔نئی نسل کے دین سے ہٹنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔اس لئے دین کا کفود یکھنا بھی اس طرح ضروری ہے جس طرح دنیا کا۔ہمارے لڑکوں اور لڑکیوں کو بعضوں کو بڑا رجحان ہوتا ہے غیروں میں رشتے کرنے کا۔اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔خاص طور پر اس آزاد معاشرے میں۔نظام کی بھی فکر اس لئے بڑھ گئی ہے کہ ایسے معاملات اب کافی زیادہ ہونے لگ گئے ہیں کہ اپنی مرضی سے غیروں میں ، دوسرے مذاہب میں رشتے کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو حاتم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کوئی ایسا شخص کوئی رشتہ لے کر آئے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اسے رشتہ دے دیا کرو۔اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ وفساد پیدا ہو گا۔سوال کرنے والے نے سوال کرنا چاہا لیکن آپ نے تین دفعہ یہی فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص رشتہ لے کر آئے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اسے رشتہ دے دیا کرو۔(ترمذی۔کتاب النکاح باب ماجاء جاء كم من ترضون دينه۔تو آپ نے اس طرف توجہ دلائی کہ دیندار لڑکے سے رشتہ کرلیا کرو۔مالی کمزوری بھی اگر ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ دین پر قائم ہے تو اللہ تعالی مالی حالات بھی درست فرما دے گا۔اس لئے