خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 914 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 914

$2004 914 خطبات مسرور اعتراض کی گنجائش نہیں ہوتی۔لیکن آپ تو اسوہ کامل تھے اور جو اسوہ کامل ہو، وہی اتنی گہرائی میں جا کر دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے کہ دعا تک میں فرق نہیں کرتا۔پھر دیکھیں کہ دیہات سے آنے والے غریب اور معمولی شکل وصورت کے شخص کے ساتھ آپ کا کتنا پیار اور محبت اور اس کی عزت نفس رکھنے کا سلوک تھا۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ زاھر نامی ایک بدوی شخص جو دیہات میں رہنے والا تھا۔نبی کریم ﷺ کو دیہات کے تحفے پیش کیا کرتا تھا۔جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو نبی نے بھی اسے تحائف دیا کرتے تھے۔تو نبی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا زاھر ہمارا بدوی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں۔نبی کریم ہے اس سے محبت کیا کرتے تھے حالانکہ وہ بظاہر معمولی شکل کا تھا۔کہتے ہیں کہ ایک روز یوں ہوا کہ وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہا تھا۔تو نبی ہے اس کے پیچھے سے آئے اور چپکے سے آکر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔اس نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا۔چنانچہ وہ کہنے لگا کون ہے مجھے چھوڑ دو۔بہر حال ہاتھ سے پہچان بھی لیا ہو گا کہ اور کس نے ہاتھ رکھنا ہے، آپ ہی ہو سکتے ہیں۔پھر وہ آپ سے لپٹ گیا۔اسے پتہ لگ گیا کہ یہ آپ ہی ہیں۔چنانچہ اس نے اپنی پشت کو نبی کریم ﷺ کے سینے کے ساتھ خوب رگڑا۔اور بی یہ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا۔اس پر اس نے کہا یا رسول اللہ ! پھر تو آپ مجھے بڑا ستا پائیں گے۔مجھ جیسے معمولی شکل والے شخص کو۔اس پر نبی ﷺ نے فرمایا مگر تم اللہ کے نزدیک سستے تو نہیں ہو یا فرمایا کہ تم اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ١٦١ ) تو دیکھیں کم شکل وصورت کے دیہاتی کی بھی کس طرح دلداری فرمائی۔پہلی بات تو یہ کہ بازار میں کھڑے ہو کر اس سے اس طرح سلوک فرما کر سب کو یہ بتا دیا کہ غربت یا امارت ، خوبصورتی یا بدصورتی کم علمی یا زیادہ علم والا ہونا، کوئی معیار نہیں ہے۔اب اگر معیار قائم ہوں گے تو نیکی اور تقویٰ پر قائم ہوں گے، عاجزی اور مسکینی پر قائم ہوں گے۔پھر اس شخص کو بھی سبق دے دیا کہ اپنی کم شکل یا غربت کا احساس نہ کرو تمہاری نیکی اور مسکینی ہی تمہیں اللہ کے نزدیک انتہائی قیمتی وجود بنا رہی ہے۔