خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 906
خطبات مسرور $2004 906 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾ (سورة الاحزاب: 22) اس آیت کا ترجمہ ہے، یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے۔ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کسی پوچھنے والے کو جواب دیا کہ تم جو آنحضرت ﷺ کے اخلاق عالیہ کے بارے مجھ سے پوچھ رہے ہو، کیا قرآن کریم میں نہیں پڑھا اس زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کی گواہی کافی نہیں ہے ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیم کہ اے رسول ! تو یقیناً اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔تو نمو نے تو وہی بنا کرتے ہیں جو کسی چیز کے اعلیٰ مقام پر ہوں۔جنہوں نے اعلیٰ ترین معیار قائم کئے ہوں۔دنیا میں تو کسی ایک یا دو باتوں یا چیزوں میں کوئی اچھا معیار حاصل کر لے تو اس کی مثال دی جاتی ہے اور وہ معیار بھی ایسے نہیں ہوتے جس کو کہہ سکیں کہ اس کی انتہا ہو گئی ہے۔آنحضرت ﷺ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نبی ہر معاملے میں اعلیٰ نمونہ ہے۔چاہے وہ گھریلو معاملات ہوں یا قومی اور ملی معاملات ہوں یا اعلیٰ روحانی معاملات ہوں، اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کی باتیں ہوں۔یہی ایک نمونہ ہے جو تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔اس لئے ہر وہ شخص جس کو اللہ کی ذات پر یقین ہے، اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آخرت کا