خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 903 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 903

خطبات مسرور 903 $2004 پس یہ آج احمدی کا ہی کام ہے کہ اس کا اظہار کریں اور بتائیں دنیا کو۔افریقہ کے دورے کے دوران ایک ملک میں ایک ایرانی ایمبیسی کے افسر آئے ہوئے تھے بہت شریف النفس انسان تھے بعد میں ایئر پورٹ بھی مجھے چھوڑنے آئے۔اور کافی دیر بیٹھے رہے۔باتیں ہوتی رہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق پر بھی بات ہوئی۔تو اس حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر فارسی کا انہیں سنایا کہ : جان و دلم فدائے جمال محمداً ست خاکم نثار کوچه " آل محمد است تو فوراً بڑی دیر تک اس کو دہراتے رہے وہ کہ ایسا شعر تو میں نے کبھی سنا ہی نہیں۔پھر میں نے کہا۔اس کے باوجود الزام یہی ہے کہ عشق رسول نہیں۔تو میں نے کہا ایک شعر اور بھی سن لیں۔آپ نے فرمایا۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم یہ شعر بھی ان کو بڑا پسند آیا۔پہلے شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن پر فدا ہیں۔اور میری تو خاک بھی آپ کی آل کے کوچہ پر شار ہے۔اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے عشق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق ہی ہے۔اگر یہ عشق کرنا کفر ہے تو میں سب سے بڑا کا فر ہوں۔تو مولوی کو کیا پتہ ان عشق کی باتوں کا۔بہر حال وہ شریف النفس تھے۔انہوں نے کہا یہ شعر کہاں ہیں مجھے کتاب دی جائے۔فارسی کی درزمین ان کو پہنچادی تھی۔تو بہر حال شرفاء میں لیکن اگر عقل نہیں آتی سمجھ نہیں آتی تو مولوی کو نہیں آئے گی۔خدا کرے کہ قوم کے لوگوں کو بھی سمجھ آجائے کہ مولوی نے سوائے فتنہ وفساد کے اور کچھ نہیں پیدا کرنا۔آج بھی ،میں پھر کہتا ہوں کہ ہر احمدی کا یہی