خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 901
$2004 901 مسرور وو یہ واقعہ ہے اس پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے صرف احمدی جماعت ہی اس بات کا دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے فتنہ ارتداد کا مقابلہ بر حیثیت اچھا کیا اور خوب کیا اور اس سے زیادہ بہتر اور صحیح طریق پر ناموس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے جہاد کبر بھی کسی دوسری جماعت نے نہیں کیا۔فرداً من الافراد کا ذکر نہیں۔کیونکہ حضرت خواجہ حسن نظامی اپنی ذات خاص سے کیا کچھ نہیں کرتے ہیں۔ان کا ذکر چھوڑو، چند ایک نے اگر کیا تو۔کہتا ہے کہ یورپ اور افریقہ اور امریکہ میں جو خدمات اسلام یہ جماعتیں کر رہی ہیں ان کا ذکر بے سود ہے۔ہندوستان میں بھی جو کام ہو رہا ہے اور جیسا ایثار اور ہمت بلکہ اولوالعزمی یہ لوگ دکھا رہے ہیں باعث صد ہزار ممنونیت قوم مسلمہ ہے۔حال میں صوبہ متوسط کے دارالصدر ناگپور میں اس جماعت کے ایک فرد واحد نے جو ثبوت اپنی ہمت و ایثار کا دیا ہے اس کی مفصل کیفیت الفضل قادیان نے 17 اگست کو لکھی ہے۔ایک صاحب ایثار کی کوششیں اور ہمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جلسہ ہوا اور بارش بہت زور شور سے ہوتی رہی۔پانی میں سب بھیگتے رہے۔جن کے پاس چھتریاں تھیں چھتریاں اتار دیں اور ریزولیوشن پیش کئے ، پاس کئے، تقریریں کیں اور ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنے پیشوا اور اپنے امام جماعت کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ کر سکتا ہے۔اور اس موقعہ پر قابل تحسین تمام فرقوں کے مسلمان ہیں جنہوں نے اختلاف کو چھوڑ کر خدا کے حکم پر تمسک کیا ، یعنی اکھٹے ہو گئے اور رہنمائے اسلام امین کامل صادق پاکباز حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک مرکز پر جمع ہو گئے اور یہی خدا کا حکم ہے۔قرآن پاک میں برابر اس کی تاکید مسلمانوں کو ہے کہ تفرقہ نہ پیدا کرو۔فرقہ بندی کو چھوڑ دو اور سب ایک ہو جاؤ گے تو غیر مسلم فرقے تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن آج کل اس کے بالکل الٹ کرتے ہیں سارے۔پھر آگے لکھتا ہے کہ ”ہم جماعت احمدیہ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ سچا کام خدمت اسلام کا انجام دے رہی ہے اور اس وقت ہندوستان میں کوئی جماعت اتنا اچھا اور ٹھوس کام نہیں کرتی کہ وہ ہر