خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 885 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 885

$2004 885 خطبات مسرور صلى الله بناتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اس طرح تم آنحضرت ﷺ کی پیروی کرو گے تو پھر ہی میں تمہارے گناہ بھی بخشوں گا اور تمہارے سے محبت کا سلوک بھی کروں گا۔تمہاری دینی اور دنیاوی بھلائیوں کے سامان بھی پیدا کروں گا۔تو گویا اب اللہ تعالیٰ تک پہنچے کے تمام راستے بند ہو گئے اور اگر کوئی راستہ کھلا ہے تو آنحضرت مے کی کامل اتباع کر کے آپ کے پیچھے چل کر ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے، یہی ایک راستہ ہے جو کھلا ہے۔پھر اس اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنے کے لئے اور آپ ملے کی محبت دل میں بڑھانے کا طریق جو اگلی آیت میں نے تلاوت کی ہے سورۃ احزاب کی اُس میں بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ نبی کوئی معمولی نبی نہیں ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا سب سے پیارا وجود ہے۔زمین و آسمان اس کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں کہ اللہ کے اس پیارے نبی پر رحمت بھیجتے رہیں اور دعائیں کرتے رہیں۔پس اے لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو تمہارا بھی یہ کام ہے کہ اس نبی سے محبت پیدا کرو۔اس پر درود بھیجو اور بہت زیادہ سلامتی بھیجو۔جب تم اس طرح اس نبی پر درودوسلام بھیجو گے تو تم پر اس کی پیروی کے راستے بھی کھلتے چلے جائیں گے اور جیسے جیسے یہ راستے کھلیں گے جس طرح تم اس کی پیروی کرتے چلے جاؤ گے اتنی ہی زیادہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے والے بھی بنتے چلے جاؤ گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : ” قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔اول وإِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي (آل عمران: 32)۔دوم۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:57)۔اور تیسرا موہبت الی“۔(حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئله وحدت الوجود پر ایک خط صفحه 23 یعنی دعائیں قبول کروانا چاہتے ہو تو جو دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس کی پیروی کرو، آپ سے محبت کرو اور اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرو۔پھر رسول اللہ پر درود بھیجو تا کہ اس محبت میں خود بھی بڑھو اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت بھی حاصل کرو۔اور