خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 886
886 $2004 خطبات مسرور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو، اس سے بخشش طلب کرو، اس کی عبادت کرو۔سب غیر اللہ کو چھوڑ دو۔تو یہ تین چیزیں ہیں اگر پیدا ہو جائیں گی تو سمجھو کہ تم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہو گے۔اور دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ : ” ان کو کہ دواس بارہ میں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔فرمایا کہ "۔میری پیروی ایک ایسی شئے ہے جو رحمت الہی سے نا امید ہونے نہیں دیتی۔گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے“۔یعنی جو حقیقی پیروی کرنے والے ہوں وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔ان میں ایک یقین کی کیفیت ہوتی ہے کہ اس پہلو سے ہم نے یقینا اللہ تعالیٰ کا قرب پالینا ہے اور اس کی محبت حاصل کر لینی ہے تو فرمایا کہ میری پیروی گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہوگا کہ تم میری پیروی کرو“۔پھر فرمایا کہ اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت اور مشقت اور جپ تپ سے اللہ تعالیٰ کا محبوب اور قرب الہی کا حقدار نہیں بن سکتا۔انوار و برکات الہیہ کسی پر نازل نہیں ہوسکتیں جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔اور جو شخص آنحضرت ﷺ کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے یعنی یہ پیروی اور محبت مومن بندے کو اتنی زیادہ ہونی چاہئے کہ اس کو باقی سب چیزوں سے بے نیاز کر دے، کسی غیر کے آگے جھکنے والے نہ ہوں۔جیسے بھی حالات ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے آستانے پر ہی جھکنے والے ہوں۔اب یہی شان ہے جو ایک احمدی کی ہونی چاہئے۔