خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 873 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 873

873 $2004 خطبات مسرور یہ اللہ ہے جو اس طرح بے قراروں کی دعائیں سنتا ہے۔اور تکلیفیں دور کرتا ہے اور ہم یہ نظارے ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔انہی دعائیں کرنے والوں نے دنیا پر حکومت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کا وارث بنایا۔اس لئے تمہارے لئے بھی یہی حکم ہے کہ اگر عبادتیں کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے بھی حصہ پاتے رہو گے۔دیکھ لیں جب عبادتوں کے معیار کم ہونے شروع ہو گئے تو آہستہ آہستہ مسلمانوں کا رعب بھی ختم ہوتا رہا۔آج ہر طاقتور قوم ان سے جو سلوک کرنا چاہے کرتی ہے اور اب تو ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔تو یا درکھو کہ یہ انعام انہی عبادتوں کی وجہ سے تھے جو ہمارے آباء واجداد نے کیس یا کرتے رہے، جو صحابہ نے کیں، ان کی وجہ سے فتوحات حاصل کیں۔اور یہ انعام اب بھی مل سکتے ہیں اور ملتے رہیں گے اگر عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہی۔اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس مادی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کر کے تم اپنی کھوئی ہوئی میراث حاصل کرلو گے، تو یہ وہم ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ دنیا داری اور نفس پرستی نے اور دنیا کی چکا چوند نے اتنا زیادہ اپنے آپ میں منہمک کر دیا ہے کہ تمہیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور تم اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔جن مسلمان ملکوں اور لیڈروں کے پاس حکومتیں ہیں ان کو اس طرف سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے نہ ہی سوچنا چاہتے ہیں۔اور یہ سب جیسا کہ میں نے کہا یہ دنیا داری ہی ہے، یہ عبادتوں میں کمی ہی ہے جس نے امت مسلمہ کی یہ حالت کر دی ہے، یہاں تک پہنچا دیا ہے۔پس یہ سوال اٹھانے کی بجائے کہ اللہ کو عبادتوں کی کیا ضرورت ہے اور عبادت مشکل ہے اور اس زمانے میں اس طرح ادائیگیاں نہیں ہوسکتیں، ہر احمدی مسلمان ہر دوسرے مسلمان کو یہ سمجھائے ، ہر دوسرے کو سمجھائے کہ یہ کھوئی ہوئی شان اگر دوبارہ حاصل کرنی ہے تو پھر عبادتوں کی طرف توجہ دو۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرو کیونکہ مسلمان کہلا کر پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے ہم اس کے انعاموں کے وارث نہیں بن سکتے۔یا درکھو یہی مسلمان کی شان ہے اور یہی ایک احمدی کی بھی شان اور پہچان ہونی چاہئے اور