خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 861
$2004 861 خطبات مسرور جائزہ لیں اور اگر ہم سارے جائزہ لیتے رہیں تو پتہ لگ جاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی کتنی باتوں پر عمل کرنے والے ہیں۔خود بخود اس جائزے کے ساتھ ہی دعا کی قبولیت کے نہ ہونے کے شکوے دور ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل عزت دعا کرنے والا اس لئے ہے کہ وہ خالص ہو کر اس کے آگے جھکتا ہے اس کے آگے، اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے، اس سے فریاد کرتا ہے، اس میں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا۔وہی صاحب عزت ہے جو اس کی رضا کی خاطر کر رہا ہے اور یہ چھپ کر بھی ہوتا ہے اور ظاہر بھی ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہوسکتا ہے۔استغفار کیا ہے؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں۔ان کے بد ثمرات سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔جوا بھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے“۔انسان کے اندر موجود ہوں لیکن انسان وہ کبھی نہ کرے۔اس لئے استغفار کرنی چاہئے۔” اور اندر ہی اندر جل بھن کر راکھ ہو جاویں“۔استغفار کی وجہ سے وہ وہیں ختم ہو جائیں۔فرمایا کہ : ” یہ وقت بڑے خوف کا ہے۔اس لئے تو بہ اور استغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو، ہر مذہب وملت کے لوگ اور اہل کتاب مانتے ہیں کہ صدقات و خیرات سے عذاب ٹل جاتا ہے۔مگر قبل از نزول عذاب۔مگر جب نازل ہو جاتا ہے تو ہر گز نہیں ملتا۔جو دنیا کے حالات ہیں، ان کے لئے بھی ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور استغفار کرنی چاہئے۔ہر احمدی اس سے محفوظ رہے۔” پس تم ابھی سے استغفار کرو اور تو بہ میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے“۔(ملفوظات جلد سوم صفحه 218البدر 24 اپریل (1903) اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا حاصل کرنے اپنا قرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ اور مالی قربانیوں کو کرنے کی اور دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔ایک افسوسناک اطلاع بھی ہے کہ سلسلہ کی ایک بزرگ، مخیر خاتون محتر مہ مجیدہ شاہنواز