خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 862 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 862

$2004 862 خطبات مسرور صاحبہ کل وفات پاگئی ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آپ حضرت نواب محمد دین صاحب کی صاحبزادی تھیں جنہوں نے ربوہ کی زمین لینے کے لئے اس کے حصول کے لئے اور پھر بعد میں پلانگ وغیرہ کی منظوری کے لئے بہت کام کیا ہوا ہے۔اور حضرت مصلح موعودؓ نے انہیں ان کے اس کام کی وجہ سے بڑا زبر دست خراج تحسین پیش کیا تھا۔محترمہ مجیدہ بیگم صاحبہ خود بھی مالی قربانیوں میں ہمیشہ صف اول میں رہی ہیں۔اور جماعتی خدمات کے لحاظ سے جور پورٹ مجھے ملی ہے، لجنہ اس کو ویری فائی (Verify) کرلے گی، کہ دہلی، کراچی اور لندن میں صدر لجنہ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیبہ بھی تھیں اور 1/3 حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی اور اپنی زندگی میں ہی تمام حصہ وصیت جائیداد وغیرہ ہر چیز کا ادا بھی کر دیا تھا۔اور اس کے علاوہ بھی جو متفرق مالی قربانیوں کی تحریک خلفاء کی طرف سے ہوتی رہی اس میں بھی آپ نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور ایک خاص بات یہ ہے کہ خلافت رابعہ کے ابتداء میں ان کے خاوند چوہدری شاہنواز صاحب مرحوم نے ذہین طلبہ کی پڑھائی کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ للہ تعالی کی خدمت میں باہر ہی ایک بڑی رقم پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا جو وہ پیش کرتے رہے۔اور ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ محترمہ مجیدہ شاہنواز صاحبہ نے بھی اس کو اپنے اور اپنے خاوند کی طرف سے جاری رکھا۔نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس رقم میں اضافہ بھی فرما دیا۔اور اب تک اس خطیر رقم سے اس کی ادائیگی ہو رہی ہے اور کافی طلبہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ فنڈ تعلیمی قائم کیا گیا تھا، دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ اور امریکہ یا یورپ میں اگر اعلیٰ تعلیم اس فنڈ سے حاصل کر چکے ہیں۔اور اس کے علاوہ بھی کئی غریب طلبہ کو بھی ہر سال وقتی امداد یا وظائف دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا جو فنڈ جاری تھا اس سے ہندوستان، نیپال اور افریقہ کے بعض سکولوں کو چلانے کے لئے گرانٹ بھی دی جاتی ہے۔تو ایک جاری صدقہ تھا جو ان کی طرف سے تھا۔