خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 860 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 860

860 $2004 خطبات مسرور وہ آزمانا چاہتے ہیں۔ان کو دعا کی حقیقت کا نہیں پتہ ہوتا۔جس طرح ایک صاحب لکھتے ہیں کہ اب کیوں نہیں کرتے۔اس لئے پورا فائدہ نہیں ہوتا۔عقلمند انسان اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔جو لوگ دعا کے منافع سے محروم ہیں۔ان کو دھوکہ ہی لگا ہوا ہے کہ وہ دعا کی تقسیم سے ناواقف ہیں۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 167-168 الحكم 28 فروری 1902) یعنی اس چیز سے ناواقف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی مانتا ہے کبھی نہیں مانتا۔جب نہیں بھی مانتا تو اپنے بندے کے لئے کوئی اور سامان پیدا فرما دیتا ہے۔الله ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے لئے باب الدعا کھولا گیا تو گویا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے۔اور اللہ تعالیٰ سے جو چیزیں مانگی جاتی ہیں، ان میں سے سب سے زیادہ اسے عافیت طلب کرنا محبوب ہے۔اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا اس ابتلاء کے مقابلہ پر جوآ چکا ہو، اور اس کے مقابلے پر بھی جوا بھی نہ آیا ہو، نفع دیتی ہے۔اے اللہ کے بندو! تم پر لازم ہے کہ تم دعا کرنے کو اختیار کرو۔صلى الله۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات باب دعا النبي علعل الله پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوسری روایت میں کہ نیکی کے علاوہ اور کوئی چیز عمر نہیں بڑھاتی۔اور دعا کے علاوہ تقدیر الہی کو کوئی چیز ٹال نہیں سکتی۔اور انسان یقیناً اپنی خطاؤں ہی کی وجہ سے جو وہ کر چکا ہوتا ہے رزق سے محروم کیا جاتا ہے۔(سنن ابن ماجه مقدمه باب في القدر) ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ : ” اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ قابل عزت اور کوئی چیز نہیں ہے“۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الدعاء) تو جب خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ضرور پھر پکا رسنتا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ جو بندے میری باتوں پر بھی عمل کریں۔تو اگر