خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 795 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 795

خطبات مسرور $2004 795 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ (آل عمران: 93) اس کا ترجمہ ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکو گے۔یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقیناً اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔یکم نومبر سے ہر سال تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔اور عموماً پہلے یا دوسرے جمعہ میں اس کا اعلان ہوتا ہے۔نئے آنے والوں اور شعور کی عمرکو پہنچنے والے بچوں اور بعض نو جوانوں کو شاید تحریک جدید کی تاریخ کا صحیح طور پر علم نہ ہو اس لئے مختصر یہاں اس کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا جب جماعت کے خلاف ایک فتنہ اٹھا، احرار نے بڑا شور مچایا۔مخالفت کا ایک طوفان تھا کہ احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔قادیان کا نام ونشان مٹانے کی باتیں ہوتی تھیں۔اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں ہوتی تھیں۔بہشتی مقبرہ جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مزار ہے اور دوسرے مقدس مقامات کی بے حرمتی کے پروگرام تھے اور پھر حکومت کی طرف سے بھی بجائے تعاون کے مخالفین کی زیادہ حمایت نظر آتی تھی۔ان کی طرفداری تھی۔تو اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت کو تحریک کی