خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 772
$2004 772 خطبات مسرور ہے۔کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم و رحیم ، حیا والا ، صادق و فادار، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہار اختیار کر لو۔اور شکست کو قبول کر لوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔چھوٹی چھوٹی دنیاوی باتوں اور جھگڑوں سے بچو جو روز مرہ ہر ایک کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا۔اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے۔اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔گویاوہ اور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا یہی وہ خوارق ہے“۔توجب تبدیلی پیدا کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی نئی شان دکھاتا ہے۔فرمایا خدا تو وہی ہے جو پہلے خدا ہے۔خدا اب نہیں بدلا بلکہ تم لوگوں کی تبدیلی کی وجہ سے تمہارے ساتھ اس کا سلوک بدل گیا ہے۔فرمایا: ” غرض دعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشت خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔اور وہ ایک پانی ہے جواندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھائی ہے“۔(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحه 222-228) | تو آخر میں نتیجہ یہ نکالا کہ یہ تمام دعائیں جو ہیں یہ اسی وقت دعاؤں کا رنگ رکھیں گی جب تم