خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 762
$2004 762 خطبات مسرور یہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ خود بھی فیصلہ کرتا ہے۔یا اگر دو آدمیوں کے حق کا معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کون زیادہ حقدار ہے اس لئے بہتر حقدار کو حق مل جاتا ہے۔لیکن نیک نیتی سے اور خالص ہو کر مانگی گئی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ کسی اور وقت کام آجاتی ہیں اس دنیا میں یا اگلے جہان میں۔اس لئے دعائیں مانگنے میں کبھی تھکنا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی مددصبر اور دعا کے ساتھ ہی ہے۔اس لئے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے مانگتے چلے جانا چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے جو بے صبری نہیں دکھاتے اور یہ نہیں کہتے کہ میں نے بہت دعائیں کر لیں اور اللہ تعالیٰ تو سنتا ہی نہیں۔یہ کفر ہے، ایمان سے دور لے جانے والی باتیں ہیں۔ایک مومن کو ہمیشہ اس سے بچنا چاہئے ایک احمدی کو ہمیشہ ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے دعاؤں کے قبول کرنے یا اس رنگ میں قبول نہ کرنے کے بارے میں جس طرح بندہ مانگتا ہے، فرمایا یہ تو دو دوستوں کی طرح کا معاملہ ہے۔کبھی دوست اپنے دوست کی مان لیتا ہے کبھی دوست سے اپنی منواتا ہے۔اسی طرح خدا معاملہ کرتا ہے۔لیکن بظاہر جو ایک مومن کی دعا خدا رڈ کرتا ہے یہ بھی اصل میں اس کے فائدے کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔( یہ الفاظ میرے ہیں شاید آگے پیچھے اصل الفاظ ہوں ) بہر حال یہی مفہوم ہے۔تو اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ: ” یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں کہ خدا کے وجود پر دلیل کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ میں بہت نزدیک ہوں۔یعنی کچھ بڑے دلائل کی حاجت نہیں۔میرا وجود نہایت اقرب طریق سے سمجھ آسکتا ہے۔اور نہایت آسانی سے میری ہستی پر دلیل پیدا ہوتی ہے“۔بڑا آسان طریقہ ہے مجھے سمجھنے کا اور دلیل حاصل کرنے کا۔” اور وہ دلیل یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی سنتا ہوں اور اپنے الہام سے اس کی کامیابی کی بشارت دیتا ا