خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 732 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 732

$2004 732 مسرور لیکن یہ بھی یادرکھیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ دعوت الی اللہ کرو وہاں یہ بھی شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا نیک اعمال بجالانے والا ہو۔اور وہی داعی الی اللہ فرمانبرداروں میں سے ہے جو نیک عمل بھی کر رہا ہے۔یہ نہیں کہ دوسروں کو تبلیغ ہواور خود نمازوں کی بھی کوئی پابندی نہ ہو، لوگوں کے حق ادا کرنے والے نہ ہوں، عزیزوں رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آنے والے نہ ہوں۔کیونکہ برکت بھی اسی داعی الی اللہ کے کام میں پڑے گی جس کے اپنے عمل بھی ایسے ہوں گے کہ جو دینی تعلیم سے مطابقت رکھتے ہوں گے۔یہاں کے لوگ بڑے ہوشیار ہیں۔آپ کی ذراسی کوئی غلطی کو پکڑ کر وہ آپ کو بتائیں گے۔اور یہ ہر جگہ ہوتا ہے۔اس لئے قانون کی پابندی کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔اور پھر اس کے ساتھ ساتھ عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔کیونکہ یہی اسلام کی تعلیم ہے کہ تبلیغ اس بات کی کرو یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ بات کہو جس پر سو فیصد خود بھی عمل کر رہے ہو۔برکت تبھی پڑے گی ور نہ تو تم خود بھی ہو سکتا ہے کہ کہہ کچھ رہے ہو اور کر کچھ رہے ہو اور تمہارا گناہ گاروں میں بھی شمار ہوسکتا ہے۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ۔كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَالَا تَفْعَلُوْنَ ﴾ (الصف : (43) کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں۔اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو کہ جو تم کرتے نہیں۔تو داعی الی اللہ کے لئے اپنے پاک نمونے بھی قائم کرنا بہت ضروری ہے اور یہ ہر ایک کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ چاہے کوئی دعوت الی اللہ کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ہر احمدی کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کیونکہ وہ جب احمدیت کی طرف منسوب ہوتا ہے تو لوگوں کی اس پر نظر رہتی ہے۔اس کا کوئی بھی غلط کام ، غلط حرکت، احمدیت کو جھٹلاتے ہیں۔اور ایک احمدی کی کوئی بھی غلط حرکت ایک اچھے دعوت الی اللہ کرنے والے کے کام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اس لئے اگر خود دعوت الی اللہ نہیں کر