خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 728
$2004 728 خطبات مسرور با قاعدہ جمعے کے خطبہ سنتا ہے، اور شام کو دوبارہ ریکارڈنگ آتی ہے تو گھر والوں کو یا اس کی جب بیوی پوچھے تو کہتا ہے کہ میں فرائیڈے سرمن (Friday Sermon) سن رہا ہوں۔وہ عیسائی ہے اور باتوں کا اثر لیتا ہے۔ڈاکٹر صاحب سے اس نے بعض خطبات کے مضمون بیان کئے کہ یہ بڑی اچھی وقت کی ضرورت ہے۔جو خطبات بھی آتے ہیں وہ صرف جماعت کے لئے وقت کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کے لئے وہ فائدہ مند ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا مزید سینہ کھولے اور اس کو احمد بیت قبول کرنے کی بھی توفیق ملے۔تو بہر حال ایم ٹی اے بھی آجکل تبلیغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو آج سے 18-19 سال پہلے آپ کے پاس نہیں تھا۔یہ اسی وقت سنا جائے گا جب آپ لوگوں کے قریبی رابطے ہوں گے۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” چاہئے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔پس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔پھر کبھی اتفاق ہو تو پھر سہی‘۔اب اس انگریز کی جو میں بات کر رہا تھا اس نے جو خطبہ سنا اور جس کی وہ ڈاکٹر صاحب کے پاس بہت تعریف کر رہا تھا وہ لین دین کے معاملات میں جو باتیں کی تھیں ان پر تھا۔اسی سے وہ بڑا متاثر تھا کہ یہ آجکل کے وقت کی بہت ضرورت ہے۔تو فرمایا کہ ایسا چٹکلہ چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے۔پھر کبھی اتفاق ہوتو پھر سہی۔غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں کیونکہ آج کل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں۔اگر صحابہ اس زمانے میں ہوتے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافر کہتے۔دن رات بیہودہ باتوں اور طرح طرح کی غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہو جاتا ہے۔بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی مثال دے رہے ہیں کہ ایک شخص علی گڑھی غائب تحصیلدار تھا۔آپ لوگ تو سارے جانتے ہیں کہ تحصیلدار کیا ہوتا