خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 725
725 $2004 خطبات مسرور کی طرف بلاتا ہوں، نیک باتوں کی طرف بلاتا ہوں اور اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔یہی ہمیں قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے۔اس آیت کے آخر پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم انتہائی محنت، انتہائی ہمت اور تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے یہ کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ نیک فطرتوں کو تمہارے ساتھ ملاتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ۔کیونکہ اس کے علم میں ہے کہ کس نے ہدایت کا راستہ اختیار کرنا ہے اور کون ہے جو چکنا گھڑا ہے جو بھی پانی پھینکو گے وہ نیچے بہہ جائے گا۔جو بدفطرت ہے اس پر کوئی اثر نہیں ہونا۔جو آ جکل کے مُلاں کی طرح ہیں کہ علم ہوتے ہوئے بھی میں نہ مانوں کی رٹ لگائے رکھیں گے۔لیکن تمہارا کام یہ ہے کہ اتمام حجت کرو، اپنا پورا زور لگاؤ پھر معاملہ خدا پر چھوڑو تمہارا کام یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کرتے رہو۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا ہے تو حکمت اور دانائی سے کرتے رہو اور ان تمام شرائط کے ساتھ کرتے رہو جو اللہ تعالیٰ نے مختلف مواقع پر بیان فرمائی ہیں جن کا میں نے مختصر ذکر بھی کیا ہے۔تو فرمایا کہ تبھی تم کہہ سکتے ہو کہ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ یعنی میں کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ورنہ یہ فرمانبرداری کے دعوے کیسے ہیں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے دعوے کیسے ہیں۔بہر حال اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔جو ہو چکا وہ ہو گیا، جو گزر گیا وہ گزر گیا لیکن آئندہ کے لئے ہمیں نئے عہد کرنے ہوں گے اور جیسا کہ میں نے کہا حکمت اور دانائی کی باتیں سیکھنے کے لئے قرآن پڑھنے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے جو قرآن و حدیث کی تشریح اور مزید وضاحتیں ہیں، ان کی طرف توجہ دینی ہوگی اس کے بارے میں میں تفصیلی خطبات پہلے بھی دے چکا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرا یہ میں ادا کرنے