خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 695
$2004 695 خطبات مسرور کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمایا کہ عنقریب بہت سے فتنے پیدا ہوں گے دریافت کیا گیا کہ ان فتنوں سے خلاصی کی کیا صورت ہوگی اے جبرائیل! فرمایا کہ فتنوں سے خلاصی کی صورت کتاب اللہ ہے۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف توجہ دیں اس کو پڑھیں ، اس کی تلاوت کریں۔اس کے مطالب کی طرف بھی توجہ دیں اور جیسا کہ پہلے حدیث بیان ہو چکی ہے، اس کا مزا بھی لیں اور اس کی خوشبو بھی پھیلائیں۔ایک روایت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کریم کو ظاہر کر کے پڑھنے والا، ظاہری طور پر صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور قرآن کریم کو چھپا کر پڑھنے والا خفیہ طور پر چندہ دینے والے کی طرح ہے۔پس جیسا کہ روایت میں ہے کہ صدقہ بلاؤں، خطرات اور فتنوں کو دور کرتا ہے، ان کو ٹالتا ہے۔قرآن کریم کا پڑھنا اور اس طرح پڑھنا کہ اس کی سمجھ بھی آ رہی ہو صدقے کے طور پر قبول ہوگا۔اور اس کی برکت سے تمام فتنوں سے بھی بچا جاسکتا ہے تمام برائیوں سے بھی بچا جا سکے گا اور ابتلاؤں سے بھی بچا جا سکے گا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف دو آدمی ایسے ہیں جن کے بارے میں حسد ( یعنی رشک جائز ہے۔یعنی ایسا حسد جو نقصان پہنچانے کے لئے نہیں بلکہ تعریفی رنگ میں ہو )۔ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہو اور وہ دن رات اس کی تلاوت کرتا ہو۔اور اس پر رشک کرنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسی چیز دی جاتی جو اسے دی گئی ہے تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسا یہ کرتا ہے۔اور دوسرا شخص وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو جس کو وہ وہاں خرچ کرتا ہے جہاں