خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 694
$2004 694 خطبات مسرور ہمیشہ فکر کرنی چاہئے کیونکہ ماحول کا بھی اثر ہو جاتا ہے۔دنیا داری بھی غالب آ جاتی ہے۔کوئی احمدی کبھی بھی ایسا نہ رہے جو کہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت نہ کرتا ہو، کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس کے احکام پر عمل نہ کرتا ہو۔اللہ نہ کرے کہ کبھی کوئی احمدی اس آیت کے نیچے آ جائے کہ اس نے قرآن کریم کو متروک چھوڑ دیا ہو۔پس اس کے لئے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو کمیاں ہیں ہر ایک کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے اندر کوئی کمی تو نہیں۔ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ تو نہیں دیا۔تلاوت با قاعدگی سے ہو رہی ہے یا نہیں۔ترجمہ پڑھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔تفسیر سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ نہیں۔متروک چھوڑنے کا مطلب یہی ہے کہ اس کے حکموں پر عمل نہیں کر رہیض نہ اللہ کے حقوق ادا کر رہے ہیں نہ بندوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں جب ہر کوئی اپنا جائزہ لے تو ہر ایک کو اپنا علم ہو جائے گا کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت صہیب سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قرآن کریم کے محرمات کو عملاً حلال سمجھ لیا اس کا قرآن پر کوئی ایمان نہیں۔یعنی جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی قرآن کریم کے جو احکامات ہیں ان پر عمل نہ کیا۔تو ایسا شخص لاکھ کہتا رہے کہ الحمد للہ میں مسلمان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتا ہے کہ نہیں تمہارا کوئی ایمان نہیں ہے۔کیونکہ تم قرآن کریم کے حکموں پر عمل نہیں کر رہے۔پس ایسے لوگوں کو جولوگوں کے حق مارتے ہیں ان کے حقوق غصب کر رہے ہیں اس حدیث کو سننے کے بعد سوچنا چاہئے کہ میرا ایمان جا رہا ہے، کس طرح اس کو واپس لے کے آنا ہے۔پھر ایک روایت میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ