خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 65 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 65

$2004 65 خطبات مسرور کرنے والے ہو گے۔اگر حسن خلق کے اعلیٰ معیار قائم نہ کئے تو اس کے ساتھ ساتھ اپنی عبادتوں کو بھی ضائع کر رہے ہو گے۔اور وہ معیار کیا ہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم قائم کریں۔فرمایا وہ معیار یہ ہے کہ تم قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔وہ قریبی رشتہ دار جو تمہارے ماں باپ کی طرف سے تمہارے قریبی رشتہ دار ہیں، تمہارے رحمی رشتہ دار ہیں۔پھر جو شادی شدہ لوگ ہیں ان کی بیوی کی طرف سے یا بیوی کے خاوند کی طرف سے رشتہ دار ہیں یہ سب قرابت داروں کے زمرہ میں آتے ہیں۔اور ان رشتوں سے حسن سلوک کا عورت اور مرد کو یکساں حکم ہے، ایک جیسا حکم ہے۔جب عورت اور مرد ایک دوسرے کے رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کر رہے ہوں گے، ایک دوسرے کے قریبیوں سے اچھے اخلاق سے پیش آرہے ہوں گے، ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ میاں بیوی دونوں میں آپس میں بھی محبت اور پیار کا تعلق خود بخود بڑھے گا۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو فرمایا کہ قربت کے رشتوں کی یعنی رحمی رشتوں کی حفاظت کر رہے ہو گے تو پھر تم میرے پسندیدہ ہو گے۔پھر فرمایا کہ اپنے گھر میں ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے والا اپنے ماحول میں مست ہو جاتا ہے کہ ارد گرد کی فکر نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری پسندیدگی کے کچھ حصے تو تم نے حاصل کر لئے ہیں، کچھ کام تو تم سرانجام دے رہے ہو، میری ہدایات پر کچھ تو عمل کر رہے ہولیکن مومن کے معیار تو بہت بلند ہیں اس لئے حسن سلوک کی اور بھی بہت ساری منازل ہیں جو طے کرنی ہیں تب تم عبادالرحمن کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہو۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ تیموں سے بھی حسن سلوک کرو، ان کا بھی خیال رکھو، ان کو معاشرے میں محرومی کا احساس نہ ہونے دو اور اس حدیث کو یا درکھو کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والے جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے جس طرح دو انگلیاں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یتامیٰ کی خبر گیری کا بڑا اچھا انتظام موجود ہے۔مرکزی طور پر بھی انتظام جاری ہے گو اس کا نام یکصد یتامی کی تحریک ہے لیکن اس کے