خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 667
$2004 667 خطبات مسرور بھی جب کسی کے پاس تھوڑا سا پیسہ آ جائے کچھ رقم آ جائے تو یہ رقم عموماً لڑائیوں اور مقدمہ بازیوں میں خرچ کر دی جاتی ہے۔زمین کے ایک ایک فٹ کے لئے فساد پیدا ہورہا ہوتا ہے۔تو بعض دفعہ پھر ان پر لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں۔پھر قتل ہو جاتے ہیں۔پھر مقدمے چلتے ہیں اور جتنی ان لوگوں کی کمائی ہوتی ہے وہ سب انہیں مقدموں اور لڑائیوں میں اور وکیلوں اور اپنے حمایتیوں کے اخراجات پورے کرنے کی نذر ہو جاتی ہے۔پھر قرض لے کر مقدمے چل رہے ہوتے ہیں تو عمو ماً جو ہمارے میں سے بہت سارے لوگ جو زمیندارہ خاندانوں میں سے آئے ہوئے ہیں ان کو پتہ ہے کہ کیا حالات ہو رہے ہوتے ہیں۔تو یعنی صلح والی کوئی بات نہیں ہوتی۔شہروں میں بھی یہی حال ہے۔ذرا ذراسی بات پر لڑائیاں ہوتی ہیں۔سارا زور ہے تو اپنی جھوٹی انا پر۔اور اس کے لئے بر باد بھی ہو جائیں تو کوئی بات نہیں۔اللہ کا خانہ تو ان لوگوں کا بالکل خالی ہے۔اور مسلمانوں میں بھی عموماً یہ بہت ہے۔پاکستان میں بھی دیکھیں اگر پوچھو آپ مسلمان ہیں ، ہاں! الحمد للہ، ماشاء اللہ ہم مسلمان ہیں لیکن مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے تعلیم پر عمل نہیں کرنا۔اور پھر یہ حال ان کا ہونا تھا۔اسی لئے ان کی اصلاح کے لئے امام مہدی نے بھی آنا تھا۔یہی حال ملکوں اور قوموں کا ہے۔ناجائز طور پر دوسرے ملکوں کوامن کے نام پر اپنے ماتحت کرتے ہیں زیر نگیں کرتے ہیں۔اپنی شرطوں پر ان کو زندہ رہنے کا حق دیتے ہیں۔صرف اس لئے کہ چھوٹے ملکوں کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔ان کی دولت پر قبضہ کر سکیں۔آج دنیا میں جو تمام فساد نظر آتا ہے وہ اسی وجہ سے ہے۔دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنے کے لئے یا معاشی فائدے اٹھانے کے لئے یا پیسہ کمانے کے لئے یہ سب فساد ہے۔یعنی یا یہ کہہ لیں کہ دوسرے کی چیز پر نظر رکھنے کی وجہ سے یہ ہے۔دوسرے کے مال کو اپنا مال بنانے کی حوس جو ہے اس کی وجہ سے یہ فساد ہے۔اور یہ سب کچھ اس زمانے میں اس لئے بڑھ گیا ہے کہ جس نا جائز پیسہ کمانے کے طریق سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا وہ عام ہو گیا ہے۔یعنی سود، اور اس کی بھی اتنی قسمیں نکل آئی ہیں کہ اگر کوئی بچنا