خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 660 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 660

$2004 660 خطبات مسرور ہے لیکن ایک نیکی انتہا تک پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو اس دروازے سے آواز پڑ جاتی ہے۔تو اس لئے یہ نہیں کسی کو سمجھ لینا چاہئے کہ گناہ بھی کر رہا ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا، باقی نیکیاں نہ بھی کر رہا ہو، اگر کسی کے حقوق سلب کر رہا ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔نمازیں پڑھ لو۔موقع کے لحاظ سے بات کی گئی ہے اور دوسری جگہوں پہ اور باتیں بھی آرہی ہیں۔تو اس لئے ہر قسم کی نیکی میں بڑھنے کی اور برائیوں کو چھوڑنے کی کوشش ہونی چاہئے۔اور پھر اگر کوئی کمی رہ گئی ہے پھر اللہ تعالیٰ جس میں زیادہ توجہ ہو آواز دے دے گا بلکہ اللہ کا فضل ہے بغیر اس کے بھی آواز دے سکتا ہے۔لیکن بہر حال یہ ایک ترغیب دلانے کے لئے بتایا گیا ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا: سب سے بڑا صدقہ یہ ہے کہ تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو اور مال کی ضرورت اور حرص رکھتا ہو۔غربت سے ڈرتا ہو اور خوشحالی چاہتا ہو۔صدقہ وخیرات میں ایسی دیر نہ کر مبادا جب جان حلق تک پہنچ جائے تو کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا۔حالانکہ وہ مال اب تیرا نہیں رہا۔وہ فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔یعنی مرنے والے کا اختیار تو اس سے نکل گیا۔(بخارى كتاب الزكوة باب فضل صدقة الشحيح الصحيح) - تو وصيت کے ضمن میں بھی میں یہی کہنا چاہتا ہوں بعض لوگ جوانی میں یا اچھی عمر میں جب اچھی کمائی ہو رہی ہو، مال ہو، اس وقت وصیت نہیں کرتے اور بڑھاپے کے وقت جب مرنے کا بالکل قریب وقت ہوتا ہے تو وصیت کے فارم فل (Fill) کرتے ہیں اور شکوہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری وصیت منظور نہیں ہوئی تو نیکی جب کرنی ہے تو نیکی کرنے کی عمر یہی ہے کہ اچھے حالات میں نیکی کی جائے جب خیال ہو کہ مجھے اس کی ضرورت ہے تب 1/10 حصہ کی قربانی کی جائے۔