خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 615 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 615

$2004 615 مسرور حدیث میں آیا ہے کہ عہدیدار بھی پوچھے جائیں گے اگر صحیح طرح سے وہ اپنے فرائض ادا نہیں کر رہے، انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہے۔حدیث میں تو ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے جن کے سپر د کام ہوں اور وہ پوری ذمہ داری سے کام نہیں کر رہے ان کے لئے جنت حرام کر دیتا ہے۔تو عہد یدار ان کے لئے تو یہ بہت بڑا انذار ہے تو جب خدا تعالیٰ خود ہی حساب لے رہا ہے تو پھر متاثرہ فریق کو کیا فکر ہے۔آپ نیکی پر قائم رہیں تو دنیاوی نقصان بھی خدا تعالیٰ پورا فرمادے گا۔ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح بکریوں کا دشمن بھیڑیا ہے اور اپنے ریوڑ سے الگ ہو جانے والی بکریوں کو بآسانی شکار کر لیتا ہے اسی طرح شیطان انسان کا بھیڑیا ہے۔اگر جماعت بن کر نہ رہیں یہ ان کو الگ الگ نہایت آسانی سے شکار کر لیتا ہے۔فرمایا اے لوگو! پگڈنڈیوں پر مت چلنا بلکہ تمہارے لئے ضروری ہے کہ جماعت اور عامۃ المسلمین کے ساتھ رہو۔تو یہاں فرمایا کہ شیطان سے بچ کر رہنے کا ایک ہی طریق ہے کہ جماعت سے وابستہ ہو جاؤ اور اس زمانے میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی ہے جوالہی جماعت ہے جو دنیا میں خالصتا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچارہی ہے۔اور اگر کوئی اور جماعت، جماعت کہلاتی بھی ہے تو ان کے اور بھی بہت سارے سیاسی مقاصد ہیں۔پس اس عافیت کے حصار کے اندر آگئے ہیں تو پھر اس کے اندر مضبوطی سے قائم رہیں اور اطاعت کرتے رہیں۔ورنہ جیسا کہ فرمایا کہ بھیڑیے ایک ایک کر کے سب کو کھا جائیں گے اور کھا بھی رہے ہیں۔ہمارے سامنے روز نظارے نظر آ رہے ہیں۔یہاں ایک اور مسئلہ بھی حل ہو رہا ہے کہ جماعت میں شامل لوگ ہی عامتہ المسلمین ہیں یعنی تعداد کے لحاظ سے زیادتی عامتہ المسلمین نہیں کہلاتی۔پس آپ ہی وہ خوش قسمت ہیں جو جماعت میں شامل ہیں اور عامتہ المسلمین کہلانے کے مستحق ہیں تو اس لئے اپنے آپ کو بھی اگر بچاتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تو مکمل صبر اور وفا سے اطاعت گزارر ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جنت کے وسط میں اپنا گھر