خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 597 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 597

597 $2004 خطبات مسرور اعمال بھی ایسے ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ کی پسند کے اعمال ہوں اور پھر تمہارا سارا وجود خدا تعالیٰ کا پسندیدہ وجود بن جائے۔پھر آجکل کی لغویات میں سے ایک چیز سگریٹ وغیرہ بھی ہیں جیسا کہ مختصر سا میں پہلے ذکر کر آیا ہوں۔نوجوانوں میں اس کی عادت پڑتی ہے اور پھر تمام زندگی یہ جان نہیں چھوڑتی سوائے ان کے جن کی قوت ارادی مضبوط ہو۔اور پھر سگریٹ کی وجہ سے بعض لوگوں کو اور نشوں کی عادت بھی پڑ جاتی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے امریکہ سے تمباکو نوشی سے متعلق اس کے بہت سے مجرب نقصان ظاہر کرتے ہوئے اشتہار دیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اشتہار سنایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ: " اصل میں ہم اس لئے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑ کے ، نو جوان تعلیم یافتہ بطور فیشن ہی کے اس بلا میں گرفتار و مبتلا ہو جاتے ہیں تا وہ ان باتوں کو سن کر اس مضر چیز کے نقصانات سے بچیں۔یعنی جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں وہ یہ باتیں سنیں تو اس کے نقصانات سے بچیں۔فرمایا: ”اصل میں تمبا کو ایک دھواں ہوتا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے۔اسلام لغو کاموں سے منع کرتا ہے اور اس میں نقصان ہی ہوتا ہے۔لہذا اس سے پر ہیز ہی اچھا ہے“۔(ملفوظات جلد3 صفحه 110 الحكم 28 فروری 1903 تو وہ لوگ جو اس لغو عادت میں مبتلا ہیں کوشش کریں کہ اس سے جان چھڑا ئیں۔اور والدین خاص طور پر بچوں پر نظر رکھیں کیونکہ آجکل بچوں کونشوں کی با قاعدہ پلاننگ کے ذریعے عادت بھی ڈالی جاتی ہے۔اور پھر آہستہ آہستہ یہ ہو جاتا ہے کہ بیچارے بچوں کے برے حال ہو جاتے ہیں۔آپ یہاں بھی دیکھیں کس قدر لوگ ان نشوں کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ایک بہت بڑی تعداد ان ملکوں میں جن میں آپ رہ رہے ہیں ، آپ دیکھیں گے سگریٹ پینے کی وجہ سے حشیش یا دوسرے نشوں میں مبتلا ہو گئی۔اور اپنے کاموں سے بھی گئے ، اپنی ملازمتوں سے بھی گئے ،