خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 569
$2004 569 خطبات مسرور فریقین کو بھی کی، لکھنے والے کو بھی کی اور گواہوں کو بھی کی۔اور آخر پر یہ بھی فرما دیا کہ شاید کسی طرح ایک دوسرے کو دھوکہ دے سکو یا حقوق دبا لو یا احسن طریق پر ادا نہ کرو، کسی طرح گواہوں پر پریشر ڈال کر دباؤ ڈال کر جس طرح آجکل اکثر ہوتا ہے اپنے مطلب کی بات کہلو الوتو یا د رکھو کہ لوگوں کو تو شاید دھوکہ دے لو لیکن اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اسے علم ہے اصل لین دین کن شرائط پر ہوا تھا اس کے علم میں ہے اصل تحریر کیا تھی ، اگر تحریر میں کوئی ردو بدل کرو گے تو وہ تمہیں ضرور پکڑے گا۔یا گواہوں پر دباؤ ڈالو گے تو تمہیں اس کی بھی سزا ملے گی کیونکہ یہ بھی گناہ ہے۔اس لئے ہر ایک کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ چاہے وہ کاروباری لین دین ہو یا ذاتی لین دین سوائے نقد لین دین کے کہ وہاں اجازت ہے اس کے علاوہ جس قسم کا بھی اور جب بھی کوئی ایسا لین دین ہو جس میں کچھ وقفہ پڑتا ہو، جہاں بھی ادھار یا قرض کی صورت بنے تو ایک تحریر ہونی چاہئے۔آجکل بہت سے کاروبار زبانی باتوں پر ہورہے ہوتے ہیں۔اور پھر ادھار بھی چل رہے ہوتے ہیں۔اور اکثر اس طرح ہوتا ہے کہ جو پارٹی شریف ہوتی ہے جس کے پاس بڑا جتھہ نہیں ہوتا ( کیونکہ کاروباری لوگوں نے بہت بڑے بڑے جتھے بنائے ہوتے ہیں ) تو ان کی رقمیں ماری جاتی ہیں۔تو احمدیوں کو چاہئے کہ زمانے کے رواج کو چھوڑ ہیں۔جو خدا کا حکم ہے اس کے مطابق ایسے لین دین کی کارروائی کیا کریں اور اسی میں سب کی بچت ہے۔پھر بعض دفعہ بعض روز مرہ کی ضروریات کے لئے یا سفر کے دوران ضرورت کے پیش آنے پر کوئی شاپنگ کی اور رقم کم ہوگئی یا خرید وفروخت کی ہے اور رقم کم ہوگئی یا کوئی چیز پسند آئی تو خریدنے کی خواہش پیدا ہوئی اور کسی دوست سے کسی عزیز سے کسی رشتہ دار سے قرض لے لیا، یہاں ایک چیز واضح کر دوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تھوڑی سی رقم ادھار لی تھی۔ان کے نزدیک ادھار اور قرض میں فرق ہے، حالانکہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔یہاں بھی بعض اوقات بعض لوگ یا دوست آتے ہیں پھر اپنے دوستوں سے رقمیں بھی لے