خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 568
568 $2004 خطبات مسرور ہو تو اس سے تحریر لکھواؤ۔اور اس بات کو اتنی اہمیت دی ہے کہ لکھنے والے کو بھی کہہ دیا کہ ایک تو انصاف سے لکھوانصاف سے تحریر بناؤ، کسی کی قرابت داری یا عزیز داری تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تحریر میں کسی فریق کی ناجائز حمایت کر دو اور پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو علم دیا ہے یعنی لکھنا سکھایا ہے تو وہ تمہیں اس بات کا بھی حکم دیتا ہے کہ جب بھی کسی تحریر لکھوانے کا معاملہ تمہارے پاس آئے تو تم نے انکار نہیں کرنا۔سارے معاشرے کو اکٹھا جوڑ دیا ہے۔پھر یہ بھی کہ جس نے قرض لیا ہے اس بات کی طاقت نہیں رکھتا اتنا پڑھا لکھا نہیں یا ذہنی طور پر کم ہے تو اس کی کم علمی یا بیوقوفی سے فائدہ اٹھا کر کوئی قرض دینے والا اس کو نقصان نہ پہنچا دے۔اس لئے فرمایا کہ اس کا کوئی قریبی عزیز یا ولی اس کی طرف سے تحریر لکھوائے۔یا بعض دفعہ بعض نابالغ ایسے ہوتے ہیں جن کی جائیداد ہوتی ہے ان سے بھی بعض لوگ قرض لے لیتے ہیں۔اس طرح بھی بعض دفعہ ہوتا ہے کہ کسی کو قرض کی تھوڑی سی رقم دے کر ، بے وقوف بنا کر، اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اس سے کئی گنا سود منافع کا نام دے کر لے لیتے ہیں اس سے بھی بچانا فرض ہے۔پھر اتنی احتیاط کی گئی ہے کہ کوئی وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب کسی قسم کی بدظنیاں پیدا ہو جائیں ہر کوئی اپنے مطلب کی بات کرنے لگ جائے اور جھگڑے اور نجشیں پیدا ہونی شروع ہو جائیں تو اس سے بچنے کے لئے فرمایا کہ جب یہ تحریر مکمل ہو جائے تو اس پر گواہوں سے گواہی بھی ڈلوالو جیسا کہ فرماتا ہے ﴿وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ یعنی اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہراؤ۔اور پھر آگے فرمایا اگر دو مرد نہ ہوں تو دو عورتیں ، ایک مرد کی جگہ دو عورتیں گواہی ڈال سکتی ہیں۔دو کی شرط اس لئے رکھی کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسرا اس کو یاد کروا دے۔تو یہاں ایک اور بھی مسئلہ حل ہو گیا کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔تو دیکھیں کتنی تاکید کی گئی ہے اس طرح پورا طریق کار بتا دیا گیا ہے۔اور پھر اسی آیت میں دو دفعہ فرمایا کہ اگر تم اس طریق کار پر عمل کرنے والے نہیں تو پھر تم تقویٰ سے بھی دور جانے والے ہو گے۔اور یہ تقویٰ کی تلقین