خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 48

$2004 48 خطبات مسرور بعض لوگ اپنے ماں باپ پر ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔میں نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا ہے، بہت ہی بھیا نک نظارہ ہوتا ہے۔اُف نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ تمہاری مرضی کی بات نہ ہو بلکہ تمہارے مخالف بات ہو تب بھی تم نے اُف نہیں کرنا۔اگر ماں باپ ہر وقت پیار کرتے رہیں، ہر بات مانیں، ہر وقت تمہاری بلائیں لیتے رہیں، لاڈ پیار کرتے رہیں پھر تو ظاہر ہے کوئی اُف نہیں کرتا۔فرمایا کہ تمہاری مرضی کے خلاف باتیں ہوں تب بھی نرمی سے ، عزت سے، احترام سے پیش آنا ہے۔اور نہ صرف نرمی اور عزت و احترام سے پیش آنا ہے بلکہ ان کی خدمت بھی کرنی ہے۔اور اتنی پیار، محبت اور عاجزی سے ان کی خدمت کرنی ہے جیسی کہ کوئی خدمت کرنے والا کر سکتا ہو۔اور سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔اب یہاں رہنے والے، مغرب کی سوچ رکھنے والے، بلکہ ہمارے ملکوں میں بھی ، برصغیر میں بھی ، بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ماں باپ کی خدمت نہیں کر سکتے ، ایک بوجھ سمجھتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ جماعت ایسے بوڑھوں کے مراکز کھولے جہاں یہ بوڑھے داخل کروا دئے جائیں کیونکہ ہم تو کام کرتے ہیں، بیوی بھی کام کرتی ہے، بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور جب گھر آتے ہیں تو بوڑھے والدین کی وجہ سے ڈسٹرب (Disturb) ہوتے ہیں، اس لئے سنبھالنا مشکل ہے۔کچھ خوف خدا کرنا چاہئے۔قرآن تو کہتا ہے کہ ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو اور اس عمر میں اُن پر رحم کے پر جھکا دو۔جس طرح بچپن میں انہوں نے ہر مصیبت جھیل کر تمہیں اپنے پروں میں لیٹے رکھا۔تمہیں اگر کسی نے کوئی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو مائیں شیرنی کی طرح جھپٹ پڑتی تھیں۔اب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو کہتے ہو کہ ان کو جماعت سنبھالے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سنبھالتی ہے لیکن ایسے بوڑھوں کو جن کی اولاد نہ ہو یا جن کے کوئی اور عزیز رشتے دار نہ ہوں۔لیکن جن کے اپنے بچے سنبھالنے والے موجود ہوں تو بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو اپنی طبیعتوں کو ، اپنی سوچوں کو تبدیل کرنا چاہئے۔یہ نہیں کہ جب تک والدین سے فائدہ اٹھاتے رہے، اٹھالیا، مکان اور