خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 523
$2004 523 خطبات مسرور مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئیں اور طبیعت میں بھی کچھ کمزوری آ گئی اس وقت پھر ایک انتظامیہ کے سپرد کیا۔جب آپ انتظام اپنے پاس رکھتے تھے تو اس وقت کا واقعہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہ تھا۔ان دنوں جلسے کے لئے الگ چندہ جمع ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود اپنے پاس سے صرف فرماتے تھے، خرچ کرتے تھے۔تو میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آ کر عرض کیا کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔آپ نے فرمایا بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر یعنی حضرت اماں جان کا کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے اس کو بیچ دو اور اس سے اتنا لے لو جس سے رات کی مہمان نوازی کا سامان ہو جائے۔چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچایا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت، کہتے ہیں میری موجودگی میں کہا کل کے لئے پھر کچھ نہیں ہے۔فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔پہلے تو میں نے جو ظاہری اسباب تھے زیور گھر میں پڑا ہوا تھا اس کو پکوا کے انتظام کر دیا تھا اب ہمیں ضرورت نہیں ہے، جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔یعنی اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں وہ خود انتظام کر لے گا۔تو اگلے دن کہتے ہیں کہ آٹھ یا نو بجے صبح جب چھٹی رساں (ڈا کیا) آیا تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چٹھی رساں کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈرز ہوں گے جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے سوسو پچاس پچاس روپے کے (اس زمانے میں سو اور پچاس کی بہت قیمت تھی ) اور اس پر لکھا تھا کہ ہم حاضری کے لئے معذور ہیں یعنی جلسے پر حاضر نہیں ہو سکتے ، مہمانوں کے اخراجات کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔وہ آپ نے وصول فرمائے پھر تو کل پر ایک تقریر فرمائی۔اور بھی چند آدمی تھے جہاں آپ کی نشست تھی۔وہاں کا یہ ذکر ہے۔فرمایا کہ جیسا کہ دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے کہ جب چاہوں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر توکل