خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 508
$2004 508 خطبات مسرور مہمان جن سے کوئی خونی رشتہ بھی نہیں ہوتا بلکہ اکثر دفعہ سال کے سال ملاقات ہوتی ہے اور بعض دفعہ کئی سال کے بعد کیونکہ جماعتی نظام کے تحت جس کو جس گھر میں ٹھہرایا جائے اس نے وہیں ٹھہرنا ہوتا ہے اور اس لئے ضروری نہیں ہوتا کہ ہر مرتبہ ہر مہمان و ہیں ٹھہرے، بعض دفعہ مہمان بدل بھی جاتے ہیں تو صرف اس لئے ان جلسے پر آنے والے مہمانوں کو مہمان بنا کر گھروں میں رکھا جاتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اور اسی لئے اپنے آرام کو ان کی خاطر قربان کیا جاتا ہے۔مجھے امید ہے یہاں بھی آپ لوگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کے لئے اسی طرح حوصلہ دکھاتے رہے ہیں اور انشاء اللہ دکھاتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ تو فیق دے کہ پہلے سے بھی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کریں۔اس دفعہ جب میں کینیڈا گیا ہوں تو بعض احمدی گھروں میں یہ دیکھ کر ربوہ کے جلسوں کی یاد تازہ ہو جاتی تھی کہ گھر والے نیچے ایک کمرے میں یا ہیں منٹ (Basement) میں محدود ہو گئے ہیں اور گھر کے کمرے مہمانوں کو دے دیئے ، ان مہمانوں کو جن کو جانتے بھی نہیں ، کوئی خون کا رشتہ بھی نہیں لیکن ایک مضبوط رشتہ ہے، احمدیت کا رشتہ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی اس رشتے کو قائم کیا ہوا ہے اور اس مضبوط رسی کو پکڑا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر ملک میں ہمیں یہ نظارے دکھائے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسافر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے گھر کہلا بھیجا کہ مہمان کے لئے کھانا بھجواؤ۔جواب آیا کہ پانی کے سوا آج گھر میں کچھ نہیں۔اس پر حضور نے صحابہ سے فرمایا اس مہمان کے کھانے کا بندو بست کون کرے گا۔ایک انصاری نے عرض کیا: حضور! میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ گھر گیا اور بیوی سے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارات کا اہتمام کرو۔بیوی نے جواباً کہا۔آج گھر میں تو صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔انصاری نے کہا اچھا تو کھانا تیار کرو اور چراغ جلاؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو تھپتھپا کر اور بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا، چراغ جلایا، بچوں کو بھو کا سلا دیا۔پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور جا کر چراغ بجھا دیا۔اور پھر دونوں مہمانوں کے