خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 486
$2004 486 خطبات مسرور ان کاموں میں برکت ڈالے تاکہ نظام جماعت پر کوئی زد نہ آئے۔اور مشورے کرنے ہیں تو اس بات پر کریں کہ اس میں جو سقم ہے ان کو اس دیئے ہوئے دائرے کے اندر جو ان لوگوں کو دیا گیا ہے کس طرح سقم دور کر سکتے ہیں اور جماعت کی بہتری کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اگر اس طرح نہیں کر رہے تو پھر سمجھیں کہ شیطان کے قبضے میں آگئے ہیں اور تقویٰ سے دور ہو گئے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس بارے میں پوچھے جاؤ گے۔تو یہاں بعض دفعہ نظام بھی ایکشن لیتا ہے ایسے لوگوں کے خلاف ، اور اگلے جہان کے بارے میں تو اللہ میاں نے کہہ دیا کہ مجھ سے ڈرو۔حضرت خلیفہ المسیح الاول اس بارے میں لکھتے ہیں کہ : ” انسان کے دکھوں میں اور خیالات ہوتے ہیں،سکھوں میں اور یعنی تکلیف میں اور خیالات ہوتے ہیں اور جب آسائش ہو اس وقت اور خیالات ہوتے ہیں۔” کامیاب ہو تو اور طریق ہوتا ہے، ناکام ہو تو اور طرز۔طرح طرح کے منصوبے دل میں اٹھتے ہیں اور پھر ان کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی کو محرم راز بناتے ہیں اور جب بہت سے ایسے محرم راز ہوتے ہیں تو پھر انجمنیں بن جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا تو نہیں مگر یہ حکم ضرور دیا ايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى۔وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَلَيْسَ بِصَارِهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (سورة المجادله: 10-11) (حقائق الفرقان جلد نمبر 4 صفحه 61) تو فرمایا کہ ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم منصوبے کرتے ہو، انجمنیں بناتے ہومگر یا در ہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کے بارے میں نہ ہو، بلکہ نیکی اور تقویٰ کے مشورے ہونے چاہئیں۔جب یہ مجلسیں بنتی ہیں تو پھر یہ بھی امکان ہے کہ اتنا آگے بڑھ جاؤ کہ تقویٰ سے ہی ہٹی ہوئی باتیں کرنے لگ جاؤ۔رسول کی نافرمانی کی باتیں کرو۔کیونکہ رسول کا تو واضح حکم ہے کہ میرے امیر کی اطاعت کرو۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے