خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 395

$2004 395 خطبات مسرور لئے ان لوگوں کا انتخاب کرے گا جو اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوں گے اور جن کا مطمح نظر بلند ہوگا تولا زما وہ بھی اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔اور رفتہ رفتہ اس کی یہ کوشش اس کے قدم کو اخلاقی بلندیوں کی طرف بڑھانے والی ثابت ہوگی۔لیکن اگر وہ برے ساتھیوں کا انتخاب کرے گا تو وہ اسے کبھی راہ راست کی طرف نہیں لے جائیں گے۔بلکہ اسے اخلاقی پستی میں دھکیلنے والے ثابت ہوں گے۔اس کے بعد پھر حضرت مصلح موعودؓ نے مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک سکھ طالبعلم تھا جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑی عقیدت تھی۔تو اس نے آپ کو لکھا کہ پہلے تو مجھے خدا کی ہستی پر بڑا یقین تھا لیکن اب مجھے کچھ کچھ شکوک وشبہات پیدا ہونے لگ گئے ہیں۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو جواب دیا کہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی دہریت کے خیالات رکھتا ہے جس کا تم پہ اثر پڑ رہا ہے، اس لئے اپنی جگہ بدل لو۔چنانچہ اس نے اپنی سیٹ بدل لی اور خود بخود اس کی اصلاح ہو گئی۔فرماتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسان پر کتنا برا اثر پڑتا ہے۔یعنی یہی حکمت ہے جس کے ماتحت رسول کریم ہے جس کسی مجلس میں تشریف رکھتے تھے تو بڑی کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے تا کہ کوئی بری تحریک آپ کے قلب مطہر پر اثر انداز نہ ہو۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ٤٨٢،٤٨١) تو دیکھیں آنحضرت علی اللہ بھی استغفار اس کثرت سے پڑھتے تھے۔پھر ایک حدیث میں روایت ہے اور بہت اہم ہے جس کی طرف والدین کو بھی توجہ دینی چاہئے اور ایسے نوجوانوں کو بھی جو نو جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ : ” انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔یعنی دوست کے اخلاق کا اثر انسان پر ہوتا ہے۔اس لئے اسے غور کرنا چاہئے کہ وہ کسے دوست بنا رہا ہے“۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب من يومران (مجالس تو والدین کو بھی نگرانی رکھنی چاہئے اور یہ نگرانی سختی سے نہیں رکھنی چاہئے۔بلکہ بچوں سے