خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 319

319 $2004 خطبات مسرور ڈالتی ہے۔یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَمَنْ يَعْمَلْ سُوْءَ أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهِ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوْرًا رَّحِيمًا (النساء: ۱۱۱) جس سے کوئی بد عملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس ناقصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلے پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے۔اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے۔یعنی اس کی مغفرت سرسری اور ا تفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے۔اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صدور لغزش و گناه بندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے، یعنی جب کوئی انسان اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور پھر اس پر شرمندگی ، ندامت اور پشیمانی ہو تو فرمایا کہ ایسی حالت میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف انسان جھکے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے۔تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کی پریشانی، پشیمانی، شرمندگی اور استغفار دیکھ کر اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی مغفرت کے سامان پیدا فرماتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرف ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائگی ہے۔فرمایا کہ یہ جواللہ تعالیٰ رجوع کرتا ہے اپنے ایسے بندے پر جو کئے ہوئے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کی معافی بھی مانگ رہا ہو تو ایک دو دفعہ تک محدود نہیں ہے۔مستقل انسان استغفار کرتارہتا ہے، مستقل اس سے معافی مانگتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ اس کی نیت دیکھ کر اس کے گناہوں کو بخشتا رہتا ہے۔یہ نہیں کہ ہر مرتبہ جان بوجھ کے گناہ کرتے چلے جاؤ بلکہ نیت ایسی ہو کہ شرمندگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہمیشہ معاف کرتا چلا جاتا ہے۔اور جب تک کوئی گناہگار تو بہ کی