خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 318
$2004 318 مسرور پھر آپ فرماتے ہیں کہ : "غفر کہتے ہیں ڈھکنے کو۔اصل بات یہی ہے کہ جو طاقت خدا کو ہے وہ نہ کسی نبی کو ہے، نہ کس ولی کو اور نہ رسول کو کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ میں اپنی طاقت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں۔پس انبیاء بھی حفاظت کے واسطے خدا کے محتاج ہیں۔پس اظہار عبودیت کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور انبیاء کی طرح اپنی حفاظت خدا تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ٦٠٩ الحكم ۱۸ مئى ۱۹۰۸ء حدیث میں آتا ہے: ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ بخدا میں اللہ تعالیٰ سے دن میں 70 مرتبہ سے بھی زیادہ تو بہ واستغفار کرتا ہوں“۔(صحیح بخاری کتاب الدعوات باب استغفار النبي في اليوم والليلة) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنی ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الہبی ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں ان کے بدنتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اور اس کا اثر بھی لازمی ہے اور آئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا پس چاہئے کہ توبہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے مفہوم اور معانی کو مد نظر رکھ کر تڑپ اور کچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه ٦٠٩ الحكم ۱۸ / مئى ۱۹۰۸ء یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کی تفسیر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرماتے ہیں کہ: سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں کہ جن کا وجو در وزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔اس کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جو خدا نے لگا دیا اس کو کون دور کرے ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔وہ کیا ہے؟ تو بہ واستغفار اور ندامت، یعنی جبکہ بر افعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی برا خیال دل میں آوے تو اگر وہ تو بہ و استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔جب وہ بار بار ٹھوکر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور توبہ اس آلودگی کو دھو