خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 309
$2004 309 مسرور پہلی بات اس میں یہی ہے کہ نماز اس طرح پڑھو کہ جس طرح ابھی کچھ دیر بعد دنیا کو چھوڑ جانا ہے اور دنیا کو چھوڑنے کا جو خوف ہے۔مرتے وقت تو بڑے بڑے ایسے لوگ جنہوں نے ظلم کی انتہا کی ہوتی ہے وہ بھی بعض دفعہ بڑی عاجزی دکھا رہے ہوتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ازواج مطہرات سے ایک ماہ کے لئے علیحدگی اختیار فرمائی اور بالا خانے میں قیام فرمایا ، میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک خالی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، اس پر کوئی چادر یا گریلا وغیرہ نہیں ہے اور چٹائی کے اثر سے آپ کے بدن مبارک پر نشان پڑ گئے ہیں۔آپ ایک تکیے سے سہارا لئے ہوئے تھے جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے تھے۔کمرے کے باقی ماحول پر نظر کی تو وہاں چمڑے کی تین خشک کھالوں کے سوا کچھ نہ تھا۔میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ دعا کریں اللہ آپ کی امت کو فراخی عطا کرے۔ایرانیوں اور رومیوں کو دنیا کی کتنی فراخی عطا ہے حالانکہ وہ خدا کی عبادت بھی نہیں کرتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے عمر ! تم بھی ان خیالوں میں ہو۔ان لوگوں کو عمدہ چیزیں اسی دنیا میں پہلے عطا کر دی گئی ہیں۔مومنوں کو آئندہ ملیں گی“۔(بخاری کتاب التفسير - سوره التحريم باب تبتغى مرضاة ازواجك تو یہاں ایک تو آپ نے یہ فرمایا کہ مال کی اتنی ہوس نہ کرو اللہ تعالیٰ سے لولگاؤ ، مومن کا یہی سرمایہ ہے۔لیکن اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مال سے منع فرما دیا۔وہ بھی روایت ہے کہ جب ایک کافر نے اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی دو پہاڑیوں کے درمیان ایک وادی میں آنحضرت کی بکریوں کا ریوڑ دیکھا اسے وہ بڑی پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے۔اس نے کہا ہاں۔تو آپ نے اسے سارا دے دیا۔اس کا مطلب ہے آپ کے پاس اتنی جائیداد میں اور باغ بھی تھے اور بکریوں کے بہت بڑے بڑے ریوڑ بھی تھے لیکن آپ نے صرف ان پر انحصار نہیں کیا کہ اس پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں کہ میری