خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 194

$2004 194 خطبات مسرور میں آپس میں مشورہ کرتے ہیں، بات کو غور سے دیکھتے ہیں، اس کے برے بھلے کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر مشورہ دیتے ہیں اور جب پھر ایک فیصلہ پر پہنچ جاتے ہیں تو جو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں تو فیق دی ہے، جو بھی استعداد یں دی ہیں ان کے مطابق وہ خرچ کرتے ہیں۔مشورہ دینے کے بعد دوڑ نہیں جاتے بلکہ مشورے کے بعد اپنے قومی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک رائے پر پہنچ جاتے ہیں پھر عملدرآمد کروانے کے لئے اپنی پوری طاقتوں کو خرچ کرتے ہیں۔جب یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے اپنے اور اپنی بیوی بچوں کی تربیت کے لئے اور نیکیوں کو قائم کرنے اور نیکیوں میں آگے بڑھنے کے لئے عمل کرنا ہے تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پھر پوری طرح اس کام میں بجت جاتے ہیں اور جب یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فرستادے کا پیغام پہنچانا ہے تو پھر اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ دعوت الی اللہ بھی کرتے ہیں۔لوگوں کی ہمدردی کی خاطر خدا کا پیغام پہنچاتے ہیں۔پہلے سے ہمت نہیں ہار دیتے کہ لوگوں نے سننا نہیں ہے دنیا دار لوگ ہیں اور فضول وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔اور پھر جب یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ قربانیاں کرنی ہیں کیونکہ یہ ہمارے عہدوں میں شامل ہے تو پھر جماعت کے مقاصد کے حصول کے لئے مالی قربانیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، اپنی جسمانی طاقتوں کو بھی اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اپنے علم کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بھی جماعتی مقاصد کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔غرض کہ ایسے لوگوں کے مشورے بھی نیکیاں قائم کرنے کے لئے ہوتے ہیں اور مشورے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنے پر تمام صلاحیتیں اور استعداد میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ مومن کا یہ فرض ہے، ایک تو خوب غور کر کے مشورہ دیں جب بھی مشورہ مانگا جائے ، جب بھی مشورے کے لئے بلایا جائے اور پھر مشورے کے بعد ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے جن کے بارے میں مشورہ دیا گیا تھا مکمل تعاون کریں بلکہ ممبران شورای کا