خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 193

193 $2004 خطبات مسرور کے بارے میں اور اس کے طریق کار کے بارے میں نظر انداز کر دیتے ہیں اور نئے آنے والے اور نوجوان پوری طرح اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے جس سے مجلس شورا ی کا وقار اور تقدس بعض دفعہ متاثر ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعود نے جہاں اپنی گہری فراست سے جماعت کے مختلف اداروں کو منظم کیا وہاں شوریٰ کے نظام کو بھی انتہائی مضبوط بنیادوں پر جماعت میں قائم فرمایا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہراس ملک میں جہاں جماعت احمد یہ قائم ہے یہ شوریٰ کا نظام قائم ہے اور بڑی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔لیکن اس کے بعض پہلو بعض دفعہ نمائندگان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اس لئے چند بنیادی باتیں میں پیش کروں گا۔پہلے تو یہ وضاحت کر دوں کہ شاور کا لفظ شار سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے شہد کے چھتے میں سے شہدا کٹھا کیا یا نکالا اور اس سے موم کو علیحدہ کیا اور شاورہ کا مطلب ہے کسی نے کسی سے مشورہ لیا، اس کی رائے لی وغیرہ۔مشاورت کا اس لحاظ سے یہ مطلب بھی ہوا کہ جس طرح محنت اور احتیاط سے وقت لگا کر چھتے میں سے شہد نکالتے ہو اور اسے بعض ملونیوں سے صاف کرتے ہو، موم سے علیحدہ کرتے ہو تا کہ کھانے کے لئے خالص چیز حاصل ہو اسی طرح مشورے بھی سوچ سمجھ کر غور کر کے اس کا اچھا اور برا دیکھ کر پھر دیے جائیں تو تب ہی یہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔اس لئے جہاں بھی مشورے ہوں اس سوچ کے ساتھ ہوں کہ ہر پہلو کو انتہائی گہری نظر سے اور بغور دیکھ کر پھر رائے دی جائے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی نیکیوں کو قائم کرنے والوں کی ، اپنے رب کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی یہ نشانی بتائی ہے، ایک تو یہ لوگ نماز قائم کرنے والے ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، اس کے عبادت گزار ہیں اور پھر یہ کہ تمام قومی معاملا