خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 171
$2004 171 خطبات مسرور تھیں اور آخری دستخط نہ ہوئے تھے حضرت ابوجندل پابہ زنجیر مکہ کی قید سے فرار ہو کر آگئے اور رسول اللہ سے فریادی ہوئے اور تمام مسلمان اس دردانگیز منظر کو دیکھ کر تڑپ اٹھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے اطمینان سے ان کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے ابو جندل !صبر کرو ہم بدعہدی نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے لئے کوئی راستہ نکالے گا۔(صحیح بخاری کتاب الشروط باب الشروط في الجهاد صلح حدیبیہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ مسلمان بھاگ کر مدینے جائے گا تو اس کو واپس اہل مکہ کی طرف لوٹایا جائے گا۔اس شق پر مسلمانوں نے تحمیل معاہدہ سے بھی پہلے عمل کر کے دکھایا اور مکہ سے بھاگ کر آنے والے ابو جندل کو دوبارہ اس کے باپ کے سپرد کر دیا گیا جس نے پھر اسے اذیت ناک قید میں ڈال دیا۔تو یہ ہے معاہدوں کی پابندی۔پھر صلح کے زمانے میں مسلمانوں کی غیر معمولی کامیابیاں دیکھ کر قریش نے معاہدہ امن تو ڑنا چاہا اور قریش کے ایک گروہ نے اپنے حلیف بنو بکر سے ساز باز کر کے تاریک رات میں مسلمانوں کے حلیف بنوخزاعہ پر حملہ کر دیا تو خزاعہ نے حرم کعبہ میں پناہ لی لیکن پھر بھی اس کے ۳۲ آدمی نہایت بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔خود سردار قریش ابوسفیان کو پتہ چلا تو اس نے اسے اپنے آدمیوں کی شرانگیزی قرار دیا اور کہا کہ اب محمد سہم پہ ضرور حملہ کریں گے۔ادھر اللہ تعالیٰ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع بذریعہ وحی اسی صبح کر دی تھی۔تو آپ نے حضرت عائشہ کو یہ واقعہ بتا کر فرمایا کہ منشاء الہی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قریش کی اس بد عہدی کا ہمارے حق میں کوئی بہتر نتیجہ ظاہر ہو اور پھر تین روز بعد قبیلہ بنو خزاعہ کا چالیس شتر سواروں کا ایک وفد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی بنو بکر اور قریش نے مل کر بد عہدی کر کے شب خون مار کر ہمارا قتل عام کیا ہے۔اب معاہدہ حدیبیہ کی رو سے آپ کا فرض یہ ہے کہ ہماری مدد کریں تو بنوخزاعہ کے نمائندہ عمرو بن سالم نے اپنا