خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 154
$2004 154 خطبات مسرور کر دیتے ہیں اور بے ہودگی کا بے ہودگی سے جواب نہیں دیتے۔(مجموعه اشتهارات جلددوم صفحه (١٢٦ فرمایا ہم دنیا میں دیکھتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان سے ایک دو مرتبہ عفو و درگزر کیا جائے اور نیک سلوک کیا جائے تو اطاعت میں ترقی کرتے اور اپنے فرائض کو پوری طرح سے ادا کرنے لگ جاتے ہیں۔اور بعض شرارت میں اور بھی زیادہ ترقی کرتے اور احکام کی پرواہ نہ کر کے ان کو توڑ دینے کی طرف دوڑتے ہیں۔اب اگر ایک خدمت گار کو جو نہایت شریف الطبع آدمی ہےاور اتفاقاً اس سے غلطی ہو گئی ہے اسے اٹھ کر مارنے اور پیٹنے لگ جائیں تو کیا وہ کام دے سکے گا، نہیں، بلکہ اسے تو عفو و درگزر کرنا ہی اس کے واسطے مفید اور اس کی اصلاح کا موجب ہے۔مگر ایک شریر کو جس کا بارہا تجربہ ہو گیا ہے کہ وہ عفو سے نہیں سمجھا بلکہ اور بھی شرارت میں قدم آگے رکھتا ہے اس کو ضرور سزا دینی پڑے گی اور اس کے واسطے مناسب یہی ہے کہ سزادی جاوے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ٢٥٦ ـ الحكم ۱۷ اپریل ۱۹۰۳ء) پھر آپ نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو سے تقویٰ سرایت کر جاوے، تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو، اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور بے جا غصہ اور غضب وغیرہ بالکل نہ ہو میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصے کا نقص اب تک موجود ہے۔تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا وقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔( یعنی جماعت کے ممبران کی اصلاح ان کے اخلاق سے شروع ہوتی ہے ) چاہئے کہ ابتداء میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور سب سے عمدہ ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے اس کے لئے درد دل سے دعا کرے۔کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینے کو ہرگز نہ بڑھاوے جیسے دنیا