خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 155
$2004 155 خطبات مسرور کے قانون ہیں ویسے ہی خدا کا بھی قانون ہے، جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔پس جب تک تبدیلی نہیں ہوگی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں ، خدا تعالیٰ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔لیکن افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود ہی قریب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ سب انسان ایک مزاج کے نہیں ہوتے اسی لئے قرآن شریف میں آیا ہے ﴿كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِه (بنی اسرائیل: ۸۵) بعض آدمی کسی قسم کے اخلاق میں اگر عمدہ ہیں تو دوسری قسم میں کمزور، اگر ایک خلق کا رنگ اچھا ہے تو دوسرے کا برا لیکن تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصلاح ناممکن ہے۔(ملفوظات جلد صفحه ۱۰۰ البدر ٨ و ١٦ ستمبر ١٩٠٤ ) - اصلاح کی کوشش کرو تو اصلاح ہو سکتی ہے۔پھر فرمایا تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ جوضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔سواس کا مجھ میں حصہ نہیں۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳ جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں جو نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۹ جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ بلند حوصلگی کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔قرآن کریم کی تعلیم کو ہمیشہ اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ پیروی کرنے والے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے والے بنیں۔آمین