خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 130
$2004 130 مسرور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھر وہ بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ﴾ کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مَرْحَمَہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے۔اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سومرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رورو کر دعا کی ہو۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۰ ، ۶۱ - البدر ۸ جولائی ۱۹۰۴) اگر اس اصول پر عمل کریں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی کسی کا عیب بیان کرے۔نہ آپ چالیس دن دعا کریں گے اور نہ عیب بیان ہوگا۔یہ بہت اہم نصیحت ہے کہ اگر کسی سے کوئی تکلیف بھی پہنچے اس میں کوئی عیب بھی دیکھو تو بجائے لوگوں میں پھیلانے کے ان کے لئے دل میں رحم پیدا کرو، ان کے لئے دعا کرو، اس پر صبر کرو اور صبر اور مستقل مزاجی سے اس کے لئے دعا کرو، اگر یہ باتیں کسی معا شرے میں پیدا ہو جائیں تو کیا اس معاشرے میں کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے؟ بہت ساری برائیاں معاشرے سے ختم ہو جائیں۔اب جماعتی زندگی میں انسان کو صبر کا کس طرح مظاہرہ کرنا چاہئے۔یعنی ہمارے اندر جو نظام ہے اس کے اندر وہ یہی ہے کہ امیر کی یا کسی عہدیدار کی طرف سے اگر زیادتی بھی ہو جائے تو برداشت کریں، صبر کریں، حوصلہ دکھا ئیں۔زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت تک اس کی شکایت پہنچادیں لیکن اپنی اطاعت میں کبھی فرق نہ آنے دیں۔حدیث میں آیا ہے، حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنے امیر میں ایسی بات دیکھی جسے وہ نا پسند کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ صبر کرے یاد