خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 8

$2004 8 خطبات مسرور نصیحت فرمارہے ہیں کہیں ہلکی سی کوئی چیز دیکھی ہوشائد۔تو آج کل اگر کسی کو نصیحت کرو تو وہ کہتا ہے کیا ہم تو بڑے عاجز ہیں۔کیا تم دیکھتے نہیں ہم میں عاجزی۔پھر حضرت انس سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تواضع انسان کو صرف بلندی میں ہی بڑھاتی ہے۔پس تواضع اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں رفعتیں عطا کرے گا۔(کنز العمال حدیث نمبر ٥٧٤٠) پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عاجزی اور انکساری کی وجہ سے عمدہ لباس ترک کیا حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ ایمان کی پوشاکوں میں سے جو پوشاک چاہے پہن لے۔(ترمذی کتاب الصفۃ القیامۃ باب ماجاء فی صفتہ اوانی الحوض) اب صرف اس سے یہی مراد نہیں۔اصل میں تو نیت مراد ہے۔اب دیکھیں کہ آج کل بھی شادی بیا ہوں میں صرف ایک دو دفعہ پہنے کے لئے دلہن کے لئے یا دولہا کے لئے بھی اور رشتہ داروں کے لئے بھی کتنے مہنگے جوڑے بنوائے جاتے ہیں جو ہزاروں میں بلکہ لاکھوں میں چلے جاتے ہیں، صرف دکھانے کے لئے کہ ہمارے جہیز میں اتنے مہنگے مہنگے جوڑے ہیں یا اتنے قیمتی جوڑے ہیں یا ہم نے اتنا قیمتی جوڑا پہنا ہوا ہے۔صرف فخر اور دکھاوا ہوتا ہے۔کیونکہ پہلے تو یہ ہوتا تھا پرانے زمانے میں کہ قیمتی جوڑا ہے تو آئندہ وہ کام بھی آجاتا تھا۔کام سچا ہوتا تھا اچھا ہوتا تھا پھر اب تو وہ بھی نہیں رہا کہ جو اگلی نسلوں میں یا اگلے بچوں کے کام میں آجائیں ایسے کپڑے۔یونہی ضائع ہو جاتے ہیں، ضائع ہورہے ہوتے ہیں۔پھر فیشن کے پیچھے چل کر دکھاوے اور فخر کے اظہار کی رو میں بہہ کر قرآن کریم کے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنی زینتوں کو چھپاؤ۔فیشن میں بس یسے ایسے عریاں قسم کے لباس سل رہے ہوتے ہیں کسی کو کوئی خیال ہی نہیں ہوتا۔تو احمدی بچوں اور احمدی خواتین کو ایسے لباسوں سے جن سے ننگ ظاہر ہوتا ہو پر ہیز کرنا چاہئے۔اور پھر فخر کے لئے لباس پہنیں گے تو دوسری برائیاں بھی جنم لیں گی۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی بچی ہر احمدی عورت کو ایمان کی پوشاک ہی پہنائے اور دنیاوی لباس جو دکھاوے کے لباس ہیں ان سے بچائے رکھے۔اسی طرح