خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 116

$2004 116 خطبات مسرور پھر آپ نے فرمایا: جو شخص بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۸ـ ۱۹) پھر آپ عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”خیانت نہ کرو۔گلہ نہ کرو۔ایک عورت دوسری عورت یا مرد پر بہتان نہ لگاوے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد۱۹ صفحه ۸۱) بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے کہ ہمدرد بن کر دوسری کسی شریف عورت کے گھر جاتی ہیں ،اس سے باتیں نکلواتی ہیں، دوستیاں قائم کرتی ہیں۔اور پھر مجلسوں میں بیان کرتی پھرتی ہیں۔تو اس قسم کے لوگ چاہے مرد ہوں یا عورت ( عورتوں کو زیادہ عادت ہوتی ہے ) وہ بھی مجالس کی امانت میں خیانت کرنے والے ہوتے ہیں۔ہر احمدی کو ان باتوں سے بھی اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لَا إِله إِلَّا اللہ کا قائل نہیں۔(ملفوظات جلد ۵ صفحه ۹۱ حاشیه بدر جلد ٦ نمبر ۲،۱ صفحه (۱۲) پھر آپ نے چندوں کے بارہ میں فرمایا :۔ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کر کے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔صحابہ کرام کو پہلے ہی سکھایا گیا تھا: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون (آل عمران : 93)۔اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اس کو نباہنا چاہئے۔اس کے برخلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔کوئی کسی ادنی درجہ کے نواب کی خیانت کر کے اس کے سامنے نہیں ہوسکتا تو احکم الحاکمین کی خیانت کر کے کس طرح سے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحه ۳۱۶ البدر۷ ارجولائی ۱۹۰۳)