خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 104
خطبات مسرور $2004 104 تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا آمَنَتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الانفال : ۸۲) اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور (اس کے ) رسول سے خیانت نہ کرو ورنہ تم اس کے نتیجہ میں خود اپنی امانتوں سے خیانت کرنے لگو گے جبکہ تم (اس خیانت کو ) جانتے ہو گے۔خیانت ایک ایسی برائی ہے جس کا کرنے والا اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے حقوق ادانہ کرنے والا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مختلف پیرایوں میں مختلف سیاق وسباق کے ساتھ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اس کے بارہ میں فرمایا ہے اور خیانت کرنے والا خائن کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس پر اعتماد کیا جائے اور وہ اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔پھر قرآن کریم میں خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ ) کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز پر گہری نظر ڈالنا جس کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔یا جان بوجھ کر ایسی چیز کو دیکھنا جس کو دیکھنے کی اجازت نہ ہو۔اور یہ آنکھ کی خیانت کہلاتی ہے۔گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے پردے کے بارہ میں کہا تھا تو بعض خواتین کو یہ شکوہ پیدا ہوا کہ ہمارے بارے میں بہت کچھ کہہ دیا مردوں کو کچھ نہیں کہا گیا کیونکہ پردے کے بارہ میں مردوں کو بھی کہنا چاہئے۔میرے خیال میں تو خواتین کا شکوہ غلط ہے کیونکہ نفض بصر کے بارہ میں میں نے