خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 5
$2004 5 خطبات مسرور تعالیٰ نے فرمایا ہے جو میں نے آیت پڑھی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو جواباً کہتے ہیں سلام۔یعنی جھگڑے کو بڑھاتے نہیں بلکہ وہیں معاملہ نپٹا کر ایک طرف ہو جاتے ہیں۔اور اگر کوئی جھگڑا کرنے کی کوشش بھی کرے تو اس کو آگے نہیں بڑھنے دیتے۔جاہلوں کی طرح ذرا ذراسی بات پر سالوں جنگیں لڑنے کی ان کو عادت نہیں ہے۔تو یہ ہے وہ حسن خلق جو آنحضرت ﷺ میں تھا اور جو آپ اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس بارہ میں علامہ رازی آیت قرآنی الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا ﴾ کی تغییر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ کون سے مراد نرمی اور ملائمت ہے۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ چال میں نرمی ہو چال میں نرمی ہوتی ہے ، سکینت ہوتی ہے، وقار اور تواضع ہوتی ہے اور تکبر اور نخوت سے اپنے پاؤں زمین پر نہیں مارتے اور متکبر لوگوں کی طرح اکٹڑ کر نہیں چلتے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا۔یعنی وہ زمین پراکٹر کر نہیں چلتے۔لکھتے ہیں کہ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے ھوں کی تفسیر تلاش کی تو مجھے نہ ملی تو خواب میں مجھے بتایا گیا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمین میں فساد نہیں چاہتے۔پھر ایک روایت ہے ،حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ آنحضور ﷺ نے ہم سے خطاب فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ انکساری اختیار کرو اس حد تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔اب امت کو تو یہ حکم ہے کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے لیکن کیا ہمارے عمل اس کے مطابق ہیں۔کسی کو اپنی قوم کا فخر ہے، خاندان کا فخر ہے، تو کسی کو دولت کا فخر ہے، کسی کو دوستوں کا فخر ہے، کسی کو اولاد کا فخر ہے اور جس طرف بھی نظر ڈالیں آپ کوئی نہ کوئی فخر کا راستہ یا کوئی نہ کوئی فخر کی سوچ ہر ایک میں نظر آجاتی ہے۔پھر اور تو اور بعض دفعہ بعض لوگ اچھے سوٹ سلوالیں یا کپڑے پہن لیں تو