خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 81

$2003 81 خطبات مسرور کو سزا دینا مراد ہے اور اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمُ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِير۔کے معنے یہ ہیں کہ اُس دن اُن کا رب اُن کی خوب خبر لے گا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم اُن کی خبر تو ضرور لیں گے مگر پہلے نہیں بلکہ حُصلَ مَا فِي الصُّدُورِ کے بعد۔جب تک اُن کے چھپے ہوئے گند پوری طرح ظاہر نہیں ہو جائیں گے ہم ان کو سزا نہیں دیں گے۔یہ مجرموں کی سزا کے متعلق ایک ایسا اصل ہے جسے بہت سے لوگ اپنی نا واقفیت کی وجہ سے نظر انداز کر دیا کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ اگر آپ بچے ہیں تو لوگوں پر مخالفت کے بعد فوراً عذاب نازل کیوں نہیں ہو جاتا۔اس شبہ کا اس آیت میں جواب موجود ہے۔محمد رسول اللہ اللہ کے دشمنوں کو خطاب کرتے ہوئے اس جگہ اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿إِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِير ہم خبیر ہیں ، ان لوگوں کے اندرونی حالات کو خوب جانتے ہیں مگر ہم حجت تمام ہونے کے بعد ان کو سزا دیں گے۔پہلے ان کے گند ظاہر کریں گے اور پھر مسلمانوں سے حملہ کروائیں گے۔بے شک ہم خبیر ہیں اور ہم پہلے بھی اُن کے حالات کو جانتے تھے مگر ہم نہیں چاہتے تھے کہ لوگوں کے دلوں میں اُن کے تقدس کا کوئی خیال باقی رہے۔ہم اُس وقت اُن کو سزا دیں گے جب حُصِلَ مَافِی الصُّدُورِ ہو جائے گا اور اُن کے گندلوگوں پر اچھی طرح ظاہر ہو جائیں گے۔(تفسیر کبیر۔سورۃ العدیت صفحه ۵۰۴٬۵۰۳) اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے کہ یہی حال آپ ﷺ کے عاشق صادق اور غلام کے دشمنوں اور ان کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا اڑانے والوں کے ساتھ بھی ہوگا۔انشاء اللہ۔پھر بعض خبریں ہیں جو قرآن کریم میں آئندہ آنے والے زمانے کے لئے بیان ہوئی ہیں۔فرمایا وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ۔اور جب نفوس ملا دئے جائیں گے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ایک تفسیری نوٹ میں اس کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ یہ وہ زمانہ ہوگا جب کثرت سے چڑیا گھر بنائے جائیں گے۔ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔اور اس زمانے کے چڑیا گھر بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے جانور سمندری اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان میں منتقل کئے جاتے ہیں کہ اس زمانے کے انسان کو اس کا وہم و گمان بھی