خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 82
خطبات مسرور نہیں ہوسکتا تھا۔82 $2003 پھر غالبا سمندری لڑائیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ پھر غالبا سمندری لڑائیوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی گئی ہے جب کثرت سے سمندروں میں جہاز رانی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں دُور دُور کے لوگ آپس میں ملائے جائیں گے۔یعنی صرف جانور ہی اکٹھے نہیں کئے جائیں گے بلکہ بنی نوع انسان بھی ملائے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَت یعنی ایسے اسباب سفر مہیا ہو جائیں گے کہ قومیں باوجود اتنی دور ہونے کے آپس میں مل جائیں گی حتی کہ نئی دنیا پرانی سے تعلقات پیدا کر لے گی۔۔۔نبی کریم کے زمانہ میں سفر کی تمام راہیں نہ کھلی تھیں۔تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ بعض ایسے مقامات بھی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی دعوت نہیں پہنچی مگر اب تو ڈاک تار، ریل سے زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک خبر پہنچ سکتی ہے۔یہ حجاز ریلوے جو بن رہی ہے یہ بھی اسی پیشگوئی کے ماتحت ہے“۔(بدر جلد۷ نمبر ۳ مورخه ۲۳/ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۳) ـ یه ۱۹۰۸ ء میں آپ نے فرمایا۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: نفوس کے ملانے کی علامت کئی طریق سے پوری ہوئی ہے۔ان میں سے ایک تو ٹیلیگراف ( تار برقی ) کی طرف اشارہ ہے جو ہر تنگی کے وقت میں لوگوں کی مدد کرتا ہے اور زمین کے دور افتادہ حصوں میں رہنے والے عزیزوں کی خبر لاتا ہے اور قبل اس کے کہ دریافت کرنے والا اپنی جگہ سے اُٹھے تار برقی اس کے عزیزوں کی خبر دیدیتی ہے اور مغربی اور مشرقی شخص کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ چلا دیتی ہے، گویا کہ وہ آپس میں ملاقات کر رہے ہیں۔پھر وہ ان پریشان و مضطر لوگوں کو ان لوگوں کے حالات سے بہت جلد اطلاع پہنچا دیتی ہے جن کے متعلق وہ فکر مند ہوتے ہیں۔پس اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دُور بیٹھے ہوئے اشخاص کو ملا دیتی ہے اور ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ یوں بات کرتا ہے کہ گویا ان کے درمیان کوئی روک نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے بالکل قریب ہوں۔اور لوگوں کے آپس میں ملانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ بحری اور بڑی راستوں پر امن ہوگا اور سفر کی مشکلات دُور ہو جائیں گی اور لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک تک