خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 4

خطبات مسہ $2003 4 تشہد وتعوذ کے بعد حضور انور نے سورۃ البقرۃ کی حسب ذیل آیت تلاوت فرمائی ﴿وَإِذَسَأَلَكَ عِبَادِي عَنِيْ فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ (البقرة : ۱۸) : اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔یہ آیت کریمہ جس کی ابھی تلاوت کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب سے تعلق رکھتی ہے۔گو اس صفت کا بیان حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرما چکے ہیں لیکن ان حالات میں آج کے لئے میں نے اس کو منتخب کیا ہے۔اس میں دعاؤں کی قبولیت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔اس پہلو سے آج یہ مضمون بیان کیا جائے گا اور قبولیت دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر جو بیشمار احسان اور فضل فرمایا ہے اس کا ذکر ہو گا۔اس بارہ میں ایک حدیث ہے:۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: - اللہ تعالی بڑا حیا والا ، بڑا کریم اور سخی ہے۔جب بندہ اس کے حضور اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی اور نا کام واپس کرنے سے شرماتا ہے۔(جامع ترمذی کتاب الدعوات باب في دعاء النبي ﷺ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں بندے کے گمان کے مطابق سلوک کرتا ہوں۔جس وقت بندہ مجھے یاد کرتا ہے، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کروں گا۔اور اگر وہ میرا